Al-Risala · June 1979 · page 3

وہ قیمت جو ادا نہیں کی گئی

الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۳

وہ قیمت جو ادا نہیں کی گئی

بائبل میں ہے" میں نے طرب کیا، تو نے رقص نہ کیا"، کائنات ایک عظیم نمائش گاہ ہے ۔ وہ قدرت اور حکمت اور معنویت کا ایک اتھاہ کارخانہ ہے۔ وہ اس قدر حسین ہے کہ اس کے حسن کو کسی بھی طرح لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ کائنات اپنے تمام جلووں کے ساتھ خدا کی ابدی طرب گاہ ہے۔ تاہم معلوم کائنات میں صرف انسان ہی وہ مخلوق ہے جو اس طرب گاہ کو سمجھ سکتا ہے اور اس کو دیکھ کر اس کے جمال و کمال پر رقص کر سکتا ہے۔ مگر وہی واحد مخلوق جس کو خدا نے اپنے دستِ خاص سے اس لیے بنایا تھا کہ وہ کائنات کی بے پناہ فن کاریوں کو دیکھے اور اسے بے خود ہو کر رقص کرنے لگے، وہی سب سے زیاوہ اس سے اعراض کرتا ہے۔ انسان سب کچھ کرتا ہے مگر وہی کام نہیں کرتا جس کو اس سے سب سے زیادہ کرنا چاہئے۔ تمام مخلوقات میں صرف انسان کو اس قسم کا احساس و شعور دیتا ظاہر کرتا ہے کہ انسان سے اس کے خدا کو کیا مطلوب ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کے "طرب پر رقص کرے" وہ کائنات میں خدا کے کرشموں کو اس طرح پالے کہ اس پر وجد کی سی کیفیت طاری ہو جائے۔ وہ بے اختیار پکار اٹھے : فتبارک اللہ احسن الخالقین (کیسی بڑی شان ہے اللہ کی جو سب سے بہتر بنانے والا ہے) انسان کی اصل قیمت یہی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو گویا وہ اس کائنات میں اپنے آپ کو بے قیمت کر رہا ہے۔ وہ اپنے وجود کو بے معنی بنا رہا ہے۔ خدا نے ایک عظیم آفاقی اسٹیج بنایا اور اس میں اپنے بہترین جلووں کے ساتھ ظاہر ہوا۔ اور یہ سب کچھ جس کے لیے کیا گیا وہ وہی تھا جس کو انسان کہا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں انسان اگر اس کی طرف سے آنکھیں بند کر لے، اگر اس کی طرف سے حمد کا اظہور نہ ہو تو یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی جو سزا بھی دی جائے وہ کم ہوگی۔ خدا کی دنیا بے حد حسین ہے۔ وہ جنت کی فضاؤں سے بھری ہوئی ہے۔ وہ خدا کے جمال و کمال کا آئینہ ہے۔ مگر انسان اس کے حسن کو دیکھ نہیں پاتا۔ انسان کے جہلی سائے نے اس کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کائنات کو اس کے جنتی روپ میں دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے بنائے ہوئے جھوٹے خول سے باہر آئے۔ وہ "انسانی دنیا" سے اوپر اٹھ کر خدائی دنیا میں جھانک سکے ۔ انسان اپنے خول سے باہر نکلنے پر تیار نہیں ہوتا، اس لیے وہ خدا کی دنیا کو دیکھ بھی نہیں پاتا۔ وہی انسان انسان ہے جو تمام دیکھی جانے والی چیزوں سے زیادہ کائنات کو دیکھے۔ کائنات کے آئینہ میں اس کو خدا کا جلوہ نظر آنے لگے ۔ جب کسی بندہ خدا پر یہ تجربہ گزرتا ہے تو اس کا دہ حال ہوتا ہے جس کو انسانی لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی زبان خدا کی حمد و ثنا میں تر رہنے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ خدا کے نور میں ڈوب جاتا ہے، اس کے الفاظ جواب دینے لگتے ہیں، اس کا شدتِ احساس آنکھوں کی راہ سے بہہ نکلتا ہے۔ خدا کی خدائی کے اعتراف میں اس کا پورا وجود خاکستر ہو جاتا ہے۔

انسان اپنے آپ میں اتنا مشغول ہے کہ اس کو خدا کی خدائی کی خبر نہیں۔ وہ اپنی "مصنوعات" میں اتنا الجھا ہوا ہے کہ اس کو خدا کی مصنوعات دکھائی نہیں دیتیں۔ وہ اپنے جلووں میں اتنا گم ہے کہ اس کو خدا کے جلوے نظر نہیں آتے۔ انسان کی سب سے بڑی محرومی یہی ہے اور جو شخص دنیا میں محروم ہو وہ آخرت میں پانے والا کس طرح بن سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues

Printed page