Al-Risala · June 1979 · page 4

وہ قیمت جو ادا نہیں کی گئی

الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۴

موت ہر ایک پر آنی تھا۔ کوئی اس سے بچ نہیں سکتا۔ تاہم موتیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جب کہ آدمی اللہ کو اپنا مقصد بنائے ہوئے ہو۔ وہ اللہ کے لئے بولتا ہو اور اللہ کے لئے چپ رہتا ہو۔ اس کی توجہ تمام تر آخرت کی طرف لگی ہوئی ہو۔ ایسے آدمی کے لئے موت کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف سفر کر رہا ہے اور موت کے فرشتہ نے اس کے سفر کو مختصر کرکے اس کو اس کی منزل تک پہنچا دیا۔

دوسرا آدمی وہ ہے جس نے اپنے مالک کو بھلا رکھا ہے۔ اس کا کیا کہنا اور اس کا چلنا اللہ کے لئے نہیں ہوتا۔ وہ اپنے رب کو چھوڑ کر کسی اور طرف بھاگ رہا ہے۔ ایسے شخص کے لئے موت کا دن اس کی گرفتاری کا دن ہے۔ اس کی مثال اس باغی کی سی ہے جو چند دن سرکشی دکھائے اور اس کے بعد اس کو پکڑ کر عدالت میں حاضر کر دیا جائے بظاہر ایک ہی موت ہے جو دونوں آدمیوں پر آتی ہے۔ مگر دونوں میں اتنا ہی فرق ہے جتنا پھول اور آگ میں۔ ایک کے لئے موت رب العالمين کا مہمان بننا ہے اور دوسرے کے لئے موت رب العالمين کے قید خانہ میں ڈالا جانا۔ ایک کے لئے موت جنت کے باغوں میں داخلہ کا دروازہ ہے اور دوسرے کے لئے موت وہ دن ہے جب کہ اس کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں پھینک دیا جاتا ہے تاکہ اپنی سرکشی کے جرم میں وہاں وہ ابدی طور پر جلتا رہے۔ مومن اور غیر مومن کی تعریف یہ ہے کہ مومن وہ ہے جس کی نگاہیں موت کے مسائل کی طرف لگی ہوئی ہوں، جو موت کے بعد آنے والی دنیا میں عزت حاصل کرنے کو اپنی تمام توجہات کا مرکز بنائے ہوئے ہو۔ اس کے برعکس غیر مومن وہ ہے جو زندگی کے مسائل میں الجھا ہوا ہو، جو موجودہ دنیا میں عزت اور کامیابی حاصل کرنے کو سب سے بڑی چیز سمجھتا ہو۔ آج کے حالات میں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کامیاب وہی ہے جو موجودہ دنیا میں اپنی جڑیں مضبوط کئے ہوئے ہو۔ مگر موت اس فریب کو مکمل طور پرڈھا دے گی۔ اس کے بعد اچانک یہ معلوم ہوگا کہ وہی شخص مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہوا تھا جس کو دنیا والوں نے بے بنیاد سمجھ لیا تھا اور وہ تمام لوگ بالکل بے حقیقت تھے جو موت سے پہلے کے حالات میں بظاہر عزت اور ترقی کی بلندیوں پر بیٹھے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ موت ہر چیز کو باطل کر دے گی اور اس کے بعد ہی چیز بچے گی جس کی عالم آخرت میں کوئی قیمت ہو۔ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر آن موت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہم چند سال بلکہ سال موجودہ دنیا میں زندگی گزار کر موت کے بعد والی دنیا میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس دوسری دنیا میں کامیاب ہونا ہی حقیقی کامیابی ہے اور وہاں ناکام ہونا ہی حقیقی ناکامی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues

Printed page