Al-Risala · June 1979 · page 5

وہ جنت کو چھوڑ کر جہنم کو لے رہے ہیں

الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۵

وہ جنت کو چھوڑ کر جہنم کو لے رہے ہیں

اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا رَضُوۡا بِالۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے اور وہ دنیا وَ اطۡمَاۡنُوۡا بِهَا وَ الَّذِیۡنَ هُمۡ عَنۡ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوۡنَ ٭ کی زندگی پر راضی ہو گئے ہیں اور اس میں ہی لگا بیٹھے ہیں، اُوۡلٰٓئِکَ مَاۡوَاهُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ٭ اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا اور جو ہماری نشانیوں سے بے پروا ہیں، ایسے لوگوں کا ٹھکانا وَ عَمِلُوا الصَّالِحٰتِ یَهۡدِیۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِاِیۡمَانِهِمۡ ۚ تَجۡرِیۡ مِنۡ آگ ہے ان کے اعمال کی وجہ سے۔ جو لوگ یقین لائے اور تَحۡتِهِمُ الۡاَنۡہٰرُ فِیۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ نیک کام کیا ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے ان کو راہ دے (یونس ۷-۹) گا جنت کی، ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی آرام کے باغوں میں۔

انسانوں کی ایک قسم وہ ہے جن کو دنیا کی چیزیں اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ پیسے کے فریب میں ہوتے ہیں۔ ان کو نظر آتا ہے کہ پیسہ سب کچھ ہے، اس لئے وہ پیسہ کمانے اور اس کے مسائل سے نمٹنے میں محو رہتے ہیں۔ کچھ لوگ شہرت و عزت کے فریب میں ہوتے ہیں۔ ان کی دل چسپیوں کا مرکز وہ چیزیں بن جاتی ہیں جن سے ان کی امیج بڑھے، جن سے ان کی عوامی تصویر میں اضافہ ہو۔ کچھ لوگ اقتدار کے فریب میں ہوتے ہیں۔ ان کی توجہ اپنے اقتدار کے مسائل میں لگی رہتی ہے۔ یہ تمام لوگ اپنی دنیوی زندگی میں اتنا گم ہو جاتے ہیں کہ ان کے ذہن و فکر کی تمام طاقتیں اسی پر لگ جاتی ہیں۔ وہ انھیں چیزوں کے اندر جینے لگتے ہیں۔ ان کو دنیا میں جو کچھ مل رہا ہے، اسی پر وہ راضی اور مطمئن ہو جاتے۔ ان کی یہ ذہنی کیفیت ان کو آخرت کی طرف سے غافل کر دیتی ہے۔ ان کی زندگی ایسی بن جاتی ہے جیسے انھیں اللہ سے ملاقات کا کھٹکا ہی نہ ہو، جیسے وہ اس اندیشہ سے خالی ہو گئے ہوں کہ ہار اور جیت، کامیابی اور ناکامی کا اصل فیصلہ اللہ کے یہاں ہونے والا ہے۔ ان کی غفلت یہاں تک بڑھتی ہے کہ خدا کے دلائل ان کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں مگر وہ بے پروائی کے ساتھ ان کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ دنیا میں ان کے معاملات کا درست ہونا ان کو اس غلط فہمی میں ڈال دیتا ہے کہ کسی دلیل اور ثبوت پر ان کو دھیان دینے کی ضرورت نہیں۔ خدا کی بات لفظوں یا خاموش اشاروں کی صورت میں ہوتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں مال و جائداد، عزت و شہرت اور عہوہ و اقتدار ایسی مادی صورتوں میں ہوتے ہیں جن کے مزے کو وہ چکھ رہے ہوں، جن کی اہمیت کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ "حقیر" کو چھوڑ کر "بڑی چیز" کو لے رہے ہیں۔ مگر حقیقۃً وہ جنت کو چھوڑ کر جہنم کو لے رہے ہوتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں ان کی مدہوشی ان کو یہ بات سمجھنے نہیں دیتی۔ مگر مرنے کے بعد جب وہ اپنے سامنے جہنم کو بھڑکتا ہوا دیکھیں گے، اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ دنیا میں وہ جو کچھ کر رہے تھے اس کی حقیقت آخرت کے اعتبار سے کیا تھی۔

اس کے برعکس معاملہ ان لوگوں کا ہے جو خدا پر اس وقت سے پہلے یقین لے آتے ہیں جب کہ دہ اپنی طاقتوں اور غفلَتوں کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا۔ ان کا یقین ان کو صحیح اور درست رویہ پر قائم رکھتا ہے۔ وہ اپنی کوششوں اور سرگرمیوں

‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues

Printed page