Al-Risala · January 1979 · page 25

با مقصد زندگی

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۲۵

با مقصد زندگی

(جماعت اسلامی ضلع اعظم گڑھ کے ایک اجتماع میں کی گئی تقریر ۔ ۱۹۶۳ء) دوستو! ہم مسلمان ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے بارے میں دعویٰ رکھتے ہیں کہ ہم با مقصد لوگ ہیں۔ کیوں کہ اسلام زندگی کا ایک مقصد ہے۔ مگر میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ با مقصد ہونے کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ ایک مقصدی تصور آپ کے ذہن میں پایا جا رہا ہو۔ کچھ تقریروں کو سن کر یا کچھ تحریروں کو دیکھ کر ایک مقصدی نظریہ کسی کے دماغ میں پہنچ جائے تو صرف اس بنا پر اسکو با مقصد انسان نہیں کہا جا سکتا۔ با مقصد انسان تو وہی ہے جو اپنے پورے وجود کے ساتھ با مقصد بن گیا ہو جس کی زندگی اسکے مقصد میں اس طرح ڈھل جائے کہ دونوں کے درمیان کوئی دوئی باقی نہ رہے۔ آپ اس وقت ایک مسجد میں بیٹھے ہیں جس کے اوپر اونچے اونچے مینار کھڑے ہیں اگر ہوا کے ذریعے کچھ آم کے پتے اڑ کر آئیں اور ان میناروں پر اٹک جائیں تو اس بنا پر ان میناروں کو آپ آم کا درخت نہیں کہنے لگیں گے۔ آم کا درخت تو وہی ہے جو اپنی جڑ میں بھی آم ہو، اپنے تنہ میں بھی آم ہو، اپنی شاخوں میں بھی آم ہو، اپنے پتوں میں بھی آم ہو، اور وہ آم ہی کے پھل دے۔ آم کا درخت آپ اسی کو کہتے ہیں جو اس طرح اوپر سے نیچے تک آم ہو۔ یہ محض کسی لمبی کھڑی ہوئی چیز پر آم سے مشابہت رکھنے والی کچھ چیزوں کا اتفاق سے جمع ہو جانا اس کو ہرگز آم نہیں بنا دیتا۔ اسی طرح آپ کو بھی با مقصد انسان کا لقب اسی وقت دیا جا سکتا ہے جب آپ سر سے پاؤں تک اپنے پورے وجود میں با مقصد بن گئے ہوں۔ محض کچھ نظریات کا کہیں سے آکر آپکے ذہن میں اٹک جانا آپ کو با مقصد نہیں بنا دیتا۔ اسلام زندگی کا ایک مقصد ہے اور ہم اسی وقت مسلمان کہے جانے کے مستحق ہیں جب ہم نے واقعی ایک مقصد کی طرح اسلام کو اپنی زندگی میں شامل کیا ہو۔

با مقصد انسان کی پہچان کیا ہے۔ اس کو دو جنوں پیرایہ سے بیان کیا جاسکتا ہے اس وقت میں اسکی چند خصوصیات کا مختصر طور پر ذکر کرونگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues

Printed page