با مقصد زندگی
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۲۶
با مقصد آدمی کی پہلی پہچان وہ ہے جس کو ”ارتکاز“ کے لفظ تعبیر کروں گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی تمام فکری اور ذہنی قوتیں آپ کے مقصد میں مرکوز ہو جائیں۔ آپ کا سوچنا، آپ کا محبت کرنا، آپ کا نقشہ کرنا، سب کچھ آپ کے مقصد کے ساتھ وابستہ ہوگئے ہوں۔ آپ کی کوئی چیز دوسری سمت بکھری ہوئی نہ ہو۔ جوتا بنانے والوں کے یہاں آپ نے دیکھا ہوگا، کام کرتے کرتے ان کے پاس بہت سی کیلیں پھیل جاتی ہیں۔ اس وقت وہ یہ کرتے ہیں کہ مقناطیس کا ایک ٹکڑا لے کر وہاں پھراتے ہیں جس سے تمام بکھری ہوئی کیلیں کھینچ کھنچ کر اس سے چمٹ جاتی ہیں۔ اور پھر وہ اٹھا کر اسے خانے میں رکھ لیتے ہیں۔ اس مثال میں اگر مقناطیس کی جگہ آپ اپنے مقصد کو رکھیں اور کیلوں کے بجائے اپنے افکار و خیالات اور جذبات و احساسات کا تصور کریں تو زندگی اور مقصد کے درمیان تعلق کو آپ سمجھ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقناطیس کے گرد لوہے کے ٹکڑے جس طرح ایک ایک کر کے اکٹھا ہو جاتے ہیں اور آس پاس کا کوئی ٹکڑا ایسا نہیں ہوتا جو اس سے آکر چمٹ نہ گیا ہو، اسی طرح آدمی کے مقصد کے گرد اس کے سارے سے دل اور سارے دماغ کو مرکوز ہو جانا چاہئے۔
یہاں ایک واقعہ مجھے یاد آتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک صاحب سیکرٹری ہاں آئے ان کو بازار کا کچھ کام تھا۔ بازار جا کر جب وہ لوٹے تو انھوں نے ایک واقعہ بتایا جس سے مجھے بڑی عبرت ہوئی۔ واقعہ بہت چھوٹا سا ہے مگر اس میں ہمارے لئے بڑی نصیحت ہے، انھوں نے کہا کہ میں ایک جگہ پہنچا جہاں سڑک کے کنارے بہت سے موچی اپنی اپنی دوکان لئے بیٹھے تھے۔ جب میں انکے پاس سے گذرا تو میں نے دیکھا کہ ان میں سے ہر شخص میرے جوتے کی طرف دیکھ رہا ہے۔ جس موچی کی نظر اٹھتی ہے وہ بس میرے جوتے پر آکر رک جاتی ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ موچی بھی اپنے مقصد میں کس قدر گم ہیں۔ ان کو انسان صرف جوتے کی شکل میں نظر آتا ہے بھرے ہوئے بازار میں سینکڑوں انسان ان کے سامنے سے آتے جاتے ہیں۔ مگر انھیں ان انسانوں سے کوئی دلچسپی بس۔ وہ ان کو نظر اٹھا کر دیکھتے بھی نہیں۔ وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ یہ آنے جانے والے لوگ اپنے پاؤں میں ایک ایسی چیز پہنے ہوئے ہیں جس کی پالش کرکے یا جس کی مرمت کرکے وہ کچھ پیسے حاصل کر سکتے ہیں۔ گویا انسان ان کی نظر میں صرف ایک ”جوتا“ ہے اور نہیں۔ اسی طرح با مقصد آدمی اپنے مقصد میں گم رہتا ہے۔ اس کو ہر چیز میں صرف اپنا مقصد نظر آتا ہے۔ وہ ہر واقعہ کو، ہر مسئلہ کو، ہر بات کو اپنے مقصد کی روشنی میں دیکھتا ہے حتیٰ کہ وہ اپنے مقصد کے تصور میں اتنا محو ہو جاتا ہے کہ دوسری چیزیں اسے بھولنے لگتی ہیں۔ ایک صاحب ہیں جو بہت فعال آدمی ہیں جو کام بھی کرتے ہیں اس کو پوری طرح لگ کر کرتے ہیں ایک مرتبہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues