وہ جنت کو چھوڑ کر جہنم کو لے رہے ہیں
الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۶
کو آخرت کی بنیاد پر چلاتے ہیں نہ کہ دنیا کی بنیاد پر۔ اللہ پر ان کا یقین ان کی رہنمائی کرتا رہتا ہے۔ ان کا ایمان اور عمل صالح ان کو ان نفسیاتی پیچیدگیوں سے پاک کر دیتا ہے جو کسی معاملہ میں حق کے پہلو کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ جب اللہ کی کوئی نشانی ظاہر ہوتی ہے تو وہ اس کو پہچان لیتے ہیں۔ جب اللہ کی کوئی دلیل سامنے آتی ہے تو اس کی معقولیت کو سمجھنے میں نہیں دیر نہیں لگتی۔ جب خدائی اشارے اپنی خاموش زبان میں بولتے ہیں تو ان کے کان ان کو سننے کے لئے بہرے ثابت نہیں ہوتے۔ اس طرح ان کا زندہ ایمان ان کو خدائی راستہ پر چلاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ ان کو جنت میں پہنچا دیتا ہے جہاں وہ خوشیوں کے سرسبز باغوں کے اندر بنے ہوئے بہترین مکانات میں ہمیشہ رہیں گے۔
انسان کے لئے صحیح راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے رب کو پکڑے اور اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارے۔ مگر موجودہ دنیا میں آدمی کو اس طرح رکھا گیا ہے کہ خدا اس کے سامنے موجود نہیں ہے۔ یہاں خدا کا ظہور آیات کی صورت میں ہوا ہے۔ آخرت میں خدا اپنی بے حجاب صورت میں نمایاں ہوگا، حتی کہ لوگ اس کو چاند اور سورج کی طرح دیکھیں گے۔ مگر موجودہ دنیا میں وہ دلائل اور نشانیوں کے ذریعہ اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہاں آدمی کو خدا کی کتاب میں خدا کو پانا ہے۔ قدرت کے پھیلے ہوئے کرشموں میں خدا کو دیکھنا ہے۔ خدا کی طرف پکارنے والے انسانوں کی آواز میں خدا کی آواز کو سننا ہے، جو شخص اس طرح خدا کو پائے، اسی نے خدا کو پایا۔ وہی خدا کا مومن بنا۔
یہی موجودہ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان ہے۔ اگرچہ یہ بڑا سخت امتحان ہے۔ یہ ”غیب“ کو شہود بنانا ہے۔ خدا کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی اس طرح اس کا مومن بن جانا ہے جیسے کہ وہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہو چکا ہے۔ لیکن اگر ایک بار آدمی اپنے آپ کو اس مقام پر پہنچا دے تو خدا اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے۔ وہ اس کی رہنمائی اور مدد کے لئے اتر آتا ہے۔ خدا اس وقت تک ہم سے الگ کھڑا رہتا ہے جب تک ہم غیب کے پردہ سے گزر کر اس کی طرف نہ لپکیں۔ مگر جب ہم اس کی طرف لپکتے ہیں تو اس کے بعد وہ ہم سے الگ نہیں رہتا۔ اب وہ ہمارا ہم نشین بن جاتا ہے۔ اب وہ مومن کی آنکھ بن جاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے۔ وہ مومن کا ہاتھ بن جاتا ہے جس سے وہ پکڑتا ہے، وہ مومن کا پاؤں بن جاتا ہے جس سے وہ چلتا ہے، ”جو ایک بار خدا کا دامن پکڑ لے، خدا خود ضامن بن جاتا ہے کہ اس کے ہاتھ سے اب خدا کا دامن کبھی نہ چھوٹے گا، وہ کبھی اپنے رب سے محروم نہ ہوگا۔ الایہ کہ اس نے خدا کا دامن نہ پایا ہو، وہ کسی اور دامن کو خدا کا دامن سمجھ بیٹھا ہو۔ ”ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے ان کو جنت تک پہنچا دے گا۔ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں داخلہ کسی آدمی کو اپنے ایمانی وجود کی وجہ سے ملے گا نہ کہ اس کے ظاہری کمالات کی وجہ سے۔ جس شخص کی شعوری ہستی اور اس کا اندرونی انسان اس قابل پایا جائے گا کہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں اس کو بسایا جائے ، اسی کو وہاں بسنے کا اجازت نامہ عطا ہوگا۔ جنت کی دنیا کا شہری وہی شخص بن سکے گا جو اپنے فکر و مزاج اور اپنے کیفیات و رجحانات کے اعتبار سے وہاں کی آباد کاری کے لئے موزوں ثابت ہو۔ جن لوگوں کے اندر یہ اعلیٰ انسان ، نہ پایا جائے گا ان کو جنت کے ماحول سے دور پھینک دیا جائے گا جہاں وہ ابد تک عذاب کے اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے۔ جنت طیب روحوں کی آباد کاری کا مقام ہے اور جہنم خبیث روحوں کا قید خانہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues