Al-Risala · June 1979 · page 7

وہ جنت کو چھوڑ کر جہنم کو لے رہے ہیں

الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۷

مجھے ایک بار لکھنؤ کے ایک علاقہ میں جانا ہوا جہاں آم کے باغات تھے۔ میں نے دیکھا کہ درختوں پر پھل لگے ہوئے ہیں مگر سب کے سب کالے ہو رہے ہیں۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ دھوئیں کی وجہ سے کالے ہو گئے ہیں۔ ان باغات کے پاس اینٹ کے بھٹے تھے جن کی چمنیوں سے ہر وقت کوئلہ کا دھواں نکلتا رہتا تھا۔ اس دھوئیں کی وجہ سے تمام پھل کالے ہو کر خراب ہو گئے۔ ان کی بڑھوتری رک گئی۔ وہ منڈی میں بیچنے کے قابل نہ رہے ۔

یہی اس دنیا کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ دنیا کے بنانے والے نے اس کو نہایت حکمت کے ساتھ بنایا ہے۔ اس کی ہر چیز بے حد نازک اور لطیف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات ایک انتہائی با معنی کارخانہ ہے۔ وہ کسی ایسی چیز کو قبول نہیں کرتی جو اس کے مزاج کے خلاف ہو، جو اس کی تخلیقی اسکیم کے مطابق نہ ہو۔ مگر کائنات کے سب سے زیادہ سر سبز اور قیمتی حصہ پر انسان ہر وقت ظلم و فساد جاری کئے ہوئے ہے۔ حق کے نام پر حق کو قتل کیا جا رہا ہے۔ اور کائنات اپنی تمام معنویت کے باوجود خاموش کھڑی ہوئی ہے۔ وہ زمین پر سب کچھ ہوتے ہوئے دیکھتی ہے مگر اس کے بارے میں اپنا کوئی بیان نہیں دیتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے خدا نے ایک مقرر مدت تک کے لیے اسی کو روک رکھا ہے۔ جب یہ مدت ختم ہوگی تو اچانک وہ بول پڑے گی۔ اس وقت وہ سب کچھ کہہ ڈالے گی جس کو آج وہ دیکھتی ہے مگر نہیں کہتی ۔

آدمی اپنے اقتدار کی سیاست چلاتا ہے اور اس کو خدا کی سیاست کا نام دیتا ہے۔ وہ مکمل اصلاح کے نفاذ کا نعرہ لگاتا ہے اور جب آزمایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جزئی اصلاح پر بھی قائم نہیں۔ وہ اپنے پڑوسی کو ستاتا ہے اور دور کے ظالم کے خلاف جھنڈا لے کر کھڑا ہوتا ہے۔ وہ اپنی انا کی پرستش میں لگا ہوتا ہے اور دوسرے کی انانیت اور تعصب کا اعلان کرنے کے لئے اسٹیج سجاتا ہے۔ وہ مفاد پرستی اور استحصال میں غرق ہوتا ہے اور انصاف اور انسانیت کے عنوان پر تقریریں کرتا ہے۔ وہ ضد اور نفرت اور انتقام کے تحت کارروائی کرتا ہے اور زبان سے یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ صرف حق کے لئے ایسا کر رہا ہے۔ وہ اپنے بدترین شیطانی کاموں کو بیان کرنے کے لئے بھی نہایت خوب صورت الفاظ پالیتا ہے۔ یہ سب کچھ انسانی دنیا میں ہورہا ہے اور کائنات اپنی تمام نفاست اور لطافت کے باوجود چپ رہتی ہے۔ وہ سچ کو سچ نہیں کہتی اور جھوٹ کے جھوٹ ہونے کا اعلان نہیں کرتی۔

کیا کائنات کے اندر تضاد ہے، کیا یہ ایک گونگی کائنات ہے۔ جس کائنات کے پاس سریلے نغمے بکھیرنے والی چڑیاں ہوں، کیا اس کے پاس حق کا اعلان کرنے کے لئے زبان نہیں۔ قرآن اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ کائنات کی یہ خاموشی اس لئے ہے کہ خدا نے اس کو قیامت کے آنے تک خاموش رہنے کا حکم دے رکھا ہے، جیسے ہی صور پھونکا جائے گا تمام زبانوں کی مہریں ٹوٹ جائیں گی۔ اس وقت ساری کائنات ایک عظیم الشان ٹیپ ریکارڈر بن جائے گی اور پھر خدا کے کے گواہ کی حیثیت سے وہ سب کچھ بتائے گی جو حق اور عدل کے مطابق اسے بتانا چاہئے۔ اس وقت لوگوں کو معلوم ہوگا کہ جس کائنات کے پاس رات کو دن بنا دینے والا سورج تھا اس کے پاس یہ بھی انتظام تھا کہ تاریخی میں چھپے ہوئے اعمال کو اجالے میں لاسکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues

Printed page