وہ جنت کو چھوڑ کر جہنم کو لے رہے ہیں
الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۸
حقیقی دین داری کیا ہے ؟
ولكل امة جعلنا منسكا ليذكروا اسم الله على ما رزقهم من بهيمة الانعام فالهكم اله واحد فله اسلموا وبشر المخبتين الذين اذا ذكر الله وجلت قلوبهم والصابرين على ما اصابهم والمقيمي الصلوة ومما رزقنهم ينفقون والبدن جعلنها لكم من شعائر الله لكم فيها خير فاذكروا اسم الله عليها صواف فاذا وجبت جنوبها فكلوا منها واطعموا القانع والمعتر كذالك سخرنها لكم لعلكم تشكرون لن ينال الله لحومها ولا دماؤها ولكن يناه التقوى منكم كذالك سخرها لكم لتكبروا الله على ما هديكم وبشر المحسنين ( حج ۳۴-۳۷ )
اور ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کرنا مقرر کیا تاکہ وہ اللہ کا نام لیں ان چوپایوں پر جو اس نے ان کو دئے ہیں۔ اللہ ہی تمھارا ایک اللہ ہے، تم اسی کے ہو کر رہو اور خوش خبری دے دو عاجزی کرنے والوں کو۔ وہ لوگ کہ جب اللہ کو یاد کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور وہ سہنے والے ہیں جوان پر پڑے اور نماز قائم رکھنے والے ہیں اور ہمارے دئے میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور قربانی کے جانور کو ہم نے تمھارے لئے اللہ کی نشانی بنایا ہے۔ اس میں تمھارا بھلا ہے۔ پس تم ذبح کے وقت ان پر اللہ کا نام لو۔ جب وہ ذبح ہو جائیں تو تم خود بھی کھاؤ اور بے سوال کو اور سوال کرنے والے کو کھلاؤ۔ ہم نے ان جانوروں کو تمھارے تابع کر دیا ہے تا کہ تم شکر کرو۔ اللہ کو ان کا گوشت اور ان کا خون نہیں پہنچتا۔ اس طرح ہم نے ان جانوروں کو تمھارے میں کر دیا ہے تا کہ تم اللہ کی بڑائی کرو اس پر کہ اس نے تم کو راہ سمجھائی اور خوش خبری دے دو نیکی کرنے والوں کو۔ ایک شخص ہے، اس نے قیمت دے کر ایک جانور خریدا اور قربانی کے دن منتر کی طرح کچھ رٹے ہوئے جملوں کو پڑھ کر اس کو ذبح کر دیا۔ گوشت کا کچھ حصہ خود کھایا، کچھ دوسروں کو دے دیا۔ خریداری کے وقت سے لے کر گوشت کھانے تک قربانی کے نام سے جو چیز اس لتے جاتی وہ بس ایک جانور تھا یا اس کا گوشت و خون۔ اس کی روح نے اس کے سوا کسی اور چیز کا تجربہ نہیں کیا۔ دوسرا شخص وہ ہے جس نے ندایت کے جذبہ سے ایک جانور لیا۔ جب وہ اس کو مذبح کی طرف لے چلا تو اس کا دل کہہ رہا تھا : خدایا ! میں جانور کو نہیں خود اپنے آپ کو تیری طرف لے کر آرہا ہوں، جب اس نے جانور کو مقررہ طریقہ پر ذبح کیا تو اس کی زبان سے نکلا : " خدایا ! یہ میری اپنی جان کا ہدیہ ہے جو میں جانور کی جان کی صورت میں تجھ کو پیش کر رہا ہوں۔ تو اس کو قبول کر لے " جانور کی قربانی کے معاملہ نے اس کو اس قربانی کے معاملہ کو یاد دلایا جو بندے کی طرف سے خالق کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے اور جانور کی قربانی اس کی صرف ایک ظاہری علامت ہے۔ قربانی کے دوران اس کا دل پگھلتا رہا۔ اس کی آنکھیں آنسو بہاتی رہیں۔ قربانی اس کے اندر نرمی پیدا کر کے ہر قسم کے جذبات کو نکالتی رہی۔ وہ کبر، عداوت، انتقام اور خودنمائی کے جذبات کو اللہ کے لئے قربان کرتا رہا ۔ ___________ جو شخص گوشت اور خون کی سطح پر رہا اس نے گویا اپنے اللہ کو قربانی کا صرف گوشت اور خون بھیجا اور جو شخص قربانی کے دوران تقویٰ کا تجربہ کرتا رہا اس نے گویا اپنے اللہ کو قربانی کا تقویٰ بھیجا۔ اور تقویٰ ہی وہ چیز ہے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues