وہ جنت کو چھوڑ کر جہنم کو لے رہے ہیں
الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۹
جو اللہ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے ، اس کو ہمارے گوشت اور خون کی ضرورت یں ۔
یہی معاملہ پورے دین کا ہے ۔ دین کا ایک گوشت اور خون ہے اور دین کا ایک تقویٰ ہے ۔ ایک اس کا چھلکا ہے اور ایک اس کا مغز ہے۔ اللہ کو مغز کی ضرورت ہے نہ کہ چھلکے کی ۔ جو لوگ چھلکے کی سطح پر دین کو پائیں ، انہوں نے ایسے دین کو پایا جو دنیا کی زندگی میں خواہ دین نظر آئے مگر آخرت میں خدا کے یہاں اس کی کوئی قیمت نہ ہوگی ۔ آخرت میں لوگوں کا دین قیمت والا ہوگا جنھوں نے مغز کی سطح پر دین کو پایا ہو۔
کچھ لوگ ایمان اور ذکر اور تلاوت اور نماز کا چرچا کرتے ہیں اور ان میں مشغول ہوتے ہیں۔ بظاہر وہ اچھا دینی کام کر رہے ہیں لیکن اگر ان کا حال یہ ہو کہ ایمان ان کے لئے زبان سے کچھ الفاظ بول دینے کا نام ہو۔ ذکر یہ ہو کہ گنتی کا ایک نصاب مقرر کیا جائے اور کچھ مقرر الفاظ کو اس کے مطابق صبح و شام دانوں پر شمار کر لیا جائے ۔ تلاوت کا مطلب ان کے لئے یہ ہو کہ کتاب اللہ کے الفاظ کو ، کسی غور وفکر کے بغیر، محض مخارج کی صحت کے ساتھ وہرایا جائے ۔ نماز سے ان کو جو جینے وہ بس یہ ہو کہ مقررہ وقت پر کچھ مقررہ اعمال کو اعضاء و جوارح کے ذریعہ ادا کر لیا ۔ اگر ان کا حال یہ ہو تو گویا انھوں نے دین کے نام پر گوشت اور خون کا تحفہ اپنے رب کو بھیجا، وہ تقویٰ کا تحفہ اس کو نہ بھیج سکے ۔ اور معلوم ہے کہ اللہ کو تقویٰ کا تحفہ مطلوب ہے نہ کہ گوشت اور خون کا ۔
اسی طرح کچھ لوگ مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کا نعرہ لگائیں۔ مگر ان کا مکمل اسلام عملاً جس چیز کا نام ہو وہ یہ کہ کوڑے اور پھانسی کی سزائیں جاری کی جائیں۔ اور اسی طرح کے کچھ اور حکومتی قوانین کے اجراء کا اعلان کر دیا جائے۔ ان کا مکمل اسلام ان کو بس خارجی اور ظاہری چیزیں دے ۔ دہ ان کو نہ اللہ کی تربیت کا تجربہ کرائے اور نہ دل کی گھلاوٹ کہ وہ نہ آدمی کو کبر اور انانیت سے خالی کرے اور نہ انتقام اور عداوت کے جذبات سے ۔ وہ نہ ان کو نفسیاتی پیچیدگیوں سے بلند انسان بنائے اور نہ یہ مزاج بنائے کہ وہ دوسروں کے لئے وہی پسند کریں جو خود اپنے لئے پسند کرتے ہیں۔ وہ دوسروں پر شرعی سزائیں نافذ کرنے کا نعرہ لگائیں مگر خود لفظی تنقید کو بھی برداشت نہ کریں۔ ان کے اندر حقیقی معنوں میں نہ خدا کا خوف ابھرے اور نہ بندوں کی خیر خواہی۔ اگر ایسا ہو تو کہا جائے گا کہ انھوں نے اسلامی نظام کا صرف گوشت اور خون پایا ہے ، اسلامی نظام کا تقویٰ پانے میں وہ ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
اسی طرح جو لوگ دین کی ان شکلوں پر دوڑیں جن میں عوامی بھیڑ جمع ہوتی ہے ، جن سے چندے اور نذرانے وصول ہوتے ہیں ۔ جن سے سستی قیادت حاصل ہوتی ہے جن سے اخباری شہرت ملتی ہے ، جن سے اعزازات اور مناصب کے دروازے کھلتے ہیں ۔ جن کے ذریعہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی ایک شان دار جلسہ میں معزز مہمان بن کر جائے اور ایک نقلی تقریر کر کے خدمت اور عمل کا کریڈٹ حاصل کرے ۔ ایسے لوگ گوشت اور خون کی سطح پر دین داری دکھارہے ہیں ۔ جب کہ تقویٰ کی سطح پر دینداری یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو توڑے اور سچائی کے آگے اپنے کو جھکائے ۔ خدا کو اشتہاری دین داری مطلوب نہیں ہے بلکہ وہ دینداری مطلوب ہے جو تقریری اسٹیج پر نہیں بلکہ خاموش عمل کے میدان میں ہوتی ہے ۔ جہاں آدمی دوسرے سے زیادہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے ۔ جب وہ نفس پر چوٹ برداشت کرتے ہوئے دوسرے کو اس کا حق ادا کرتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues