وہ جنت کو چھوڑ کر جہنم کو لے رہے ہیں
الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۱۰
خوش خیالیاں حقیقت کا بدل نہیں بن سکتیں !
سڑک پر مجمع 21 نمبر کی بس کا انتظار کر رہا تھا۔ اتنے میں ایک بس آتی دکھائی دی اور سارے لوگ اس کی طرف دوڑ پڑے ۔ " اوہ ! تو ۱۲ نمبر کی بس ہے ۔ یہ بورڈ دیکھ کر ایک شخص بولا ۔ " ۱۲ کو ۲۱ کر لو اور چلے جاؤ " دوسرے نے کہا۔ ظاہر ہے کہ یہ صرف مذاق تھا۔ کوئی شخص ایسا نہیں کرے گا کہ گھر یامٹی لے کر بس پر اپنا مطلوبہ نمبر لکھے اور اس پر بیٹھ کر سمجھے کہ اب وہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔ یہ ہندسہ کا فرق نہیں، حقیقت کا فرق تھا۔ اور حقیقت کے فرق کو ہندسہ کے فرق سے بدلا نہیں جاسکتا۔ یہ بات اپنی ذاتی زندگی کے معاملات میں ہر شخص جانتا ہے ، مگر عجیب بات ہے کہ ملت کے رہنما جب ملت کا مسئلہ حل کرنے کے لئے اٹھتے ہیں تو ہاں وہ اس انتہائی معلوم حقیقت کو بھول جاتے ہیں۔ شاید اس لئے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہندسہ کو بدل کر وہ اُس کام کا کریڈٹ حاصل کر لیں جو صرف حقیقت کو بدلنے کے نتیجہ میں کسی کو ملتا ہے ایک ایسا سماج جہاں امتیاز اور لیاقت کی بنیاد پر لوگوں کو درجات ملتے ہیں، ہم مراعات اور تحفظات کے عنوان پر کانفرنس کر رہے ہیں۔ ایک ایسا نظام جہاں علمی اور اقتصادی طاقت کے بل پر قوموں کے فیصلے ہوتے ہیں، ہم احتجاج اور مطالبات کے پوسٹر دیواروں پر چپکا رہے ہیں۔ ایک ایسی دنیا جہاں زبان و بیان نے بالکل نیا انداز اختیار کر لیا ہے، ہم اپنے روایتی کتب خانہ کے بورڈ پر دورِ جدید "کا لفظ لکھنے کے لئے آرٹسٹ کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ ایک ایسا زمانہ جہاں عالمی ذہن نے سیاست کو سیکولر بنیادوں پر قائم کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے، ہم عوام کا ذہن بدلے بغیر بیلٹ بکس سے اسلامی نظام برآمد کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ایک ایسی آبادی جہاں اختلاف اور شکایت کے گہرے مادی اسباب موجود ہیں، ہم لفظی تقریروں کے کرشمے دکھا کر حالات کو درست کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ایک ایسے معاشرہ میں جہاں ہم تعلیم، اقتصادیات، باہمی اتحاد ہر لحاظ سے تمام گروہوں میں سب سے پیچھے ہیں، ہم جلسوں اور کانفرنسوں کے ذریعہ ملک کی قسمت بدلنے کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ ایک ایسا جغرافیہ جہاں ہمارے پاس اپنے تحفظ کی بھی طاقت نہیں ، ہم " حریف کو نقصان پہنچاؤ " کا طریق کار اختیار کر کے باعزت زندگی حاصل کرنے کی تجویزیں پیش کر رہے ہیں۔ اس قسم کی تمام باتیں اسی طرح بے معنی ہیں جس طرح ۱۲ نمبر کی بس پر ۲۱ نمبر لکھ کر اپنی منزل کی طرف شروع کرنا۔ □ دنیا میں مخلص افراد کی کمی نہیں۔ مگر زمین کی پیٹھ شاید ایسے لوگوں سے خالی ہے جو دوسروں کے ساتھ انصاف کرنا جانتے ہوں ۔ آدمی اپنے اخلاص میں اتنا گم ہے کہ اس کو دوسرے کے اخلاص کی خبر نہیں۔ اور اگر دوسرے کی طرف سے کوئی اتفاقی تکلیف پہنچ جائے یا کوئی شکایت کی بات ہو جائے ، جو اجتماعی زندگی میں بالکل فطری ہے، تو اس کے بعد آدمی کا حال عجیب ہو جاتا ہے۔ دوسرے شخص کا برا ہونا اور خود اپنا بر سر حق ہونا اس کے لئے اتنا یقینی بن جاتا ہے کہ کوئی بھی دلیل یا کوئی بھی وضاحت اس کے دل کو صاف کرنے میں کامیاب ثابت نہیں ہوتی۔ خوش گمانی کی تمام قسموں کو وہ اپنے لئے خاص کر لیتا ہے اور بدگمانی کی تمام قسموں کو دوسروں کے لئے ۔ ( ۶ مارچ ۱۹۷۹)
‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues