Al-Risala · June 1979 · page 11

وہ جنت کو چھوڑ کر جہنم کو لے رہے ہیں

الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۱۱

خدا کا سرا اس وقت آدمی کے ہاتھ آتا ہے جب خدا کی طرف بڑھنے میں دنیا کے سرے اس سے چھوٹ گئے ہوں حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کے شہر ار میں پیدا ہوئے ۔ مخالفین نے جب وہاں رہنا آپ کے لئے ناممکن بنا دیا تو آپ اللہ کے حکم سے عرب کے صحرا میں پہنچے اور مکہ میں بیت اللہ کی تعمیر کی جو اس وقت ایک غیر آباد مقام تھا۔ اس موقع پر آپ کی زبان سے جو دعائیں نکلیں ان میں سے ایک یہ تھی :

ربنا انی اسكنت من ذريتي بواد غير ذی زرع عند اے ہمارے رب میں نے اپنی اولاد کو تیرے محترم گھر کے بيتك المحرم۔ ربنا ليقيموا الصلوة فاجعل پاس ایک میدان میں بسا دیا ہے جہاں کھیتی نہیں۔ اے افئدة من الناس تهوى اليهم وارزقهم من ہمارے رب تا کہ وہ نماز قائم رکھیں۔ پس تو کچھ لوگوں کے الثمرات لعلهم يشكرون - ربنا انك تعلم دل ان کی طرف مائل کر دے اور ان کو روزی دے میووں ما نخفی وما نعلن وما يخفی علی اللہ من شیئی فی سے۔ تاکہ وہ شکر کریں۔ اے ہمارے رب تو جانتا ہے جو ہم الارض ولا فى السماء (ابراهيم (۳۸) چھپاتے ہیں اور جو ہم ظاہر کرتے ہیں، اور اللہ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا یہ واقعہ ایک علامتی واقعہ ہے۔ یہ تاریخ کی زبان میں بتا رہا ہے کہ ایک بندہ خدا کے ساتھ اس وقت کیا پیش آتا ہے جب کہ وہ بے آمیز حق کی دعوت کو لے کر کھڑا ہو جائے ۔ ________ وقت کے قائم شدہ نظام میں وہ بے جگہ ہو جاتا ہے ، مذہبی ادارے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ حتی کہ دوستوں اور رشتہ داروں کے لئے اس میں کوئی کشش باقی نہیں رہتی۔ دنیا کی ذی زرع وادیاں، اپنی تمام سرسبزی کے باوجود، اس کے لئے خشک ہو جاتی ہیں۔ وہ مجبور ہو جاتا ہے کہ اپنے بیوی بچوں کو لے کر برباد معاشیات کی ایک زمین میں جابسے اور اپنے رب سے کہے کہ : خدایا ! تیرے سوا ان کا کوئی سہارا نہیں۔ انسانوں کی بنائی ہوئی دنیا نے ان کو رزق دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ اب تو ان کے قدموں کے نیچے سے ان کے لئے رزق کے چشمے جاری کر دے۔ یہ تاریخ انسانی کا نازک ترین لمحہ ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب کہ کائنات کی نبض رک جاتی ہے۔ زمین و آسمان کی گردشیں نئے حکم کا انتظار کرنے لگتی ہیں۔ انسانی تاریخ نئے تجربہ سے متعارف ہوتی ہے : بیابان میں چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔ چھتیں پھاڑ کر خدا کے خزانے اترتے ہیں۔ دانی کی آواز ہواؤں کے دوش پر پھیلنے لگتی ہے۔ خدا اپنی طاقتوں کے ساتھ اپنے ان بندوں کی مدد پر اتر پڑتا ہے جن کو بے حقیقت سمجھ کر دنیا والوں نے اپنی مدد سے محروم کر دیا تھا۔ بے آمیز دعوت کا کام اس آسمان کے نیچے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ مگر یہی وہ کام ہے جو خدا کی مدد کو سب سے زیادہ کھینچنے والا ہے۔ اگر چہ یہ مدد اس وقت آتی ہے جب کہ دعوت کا اظہار اور اس کی پاداش میں داعی کی مظلومی، دونوں اپنی آخری انتہا پر پہنچ چکے ہوں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues

Printed page