Only a woman knows what loneliness is
الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۱۹
اس کی مدد کرتی ہے۔ وہ بہت جلد ترقی کی سیڑھیاں طے کرنے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ ترقی کے آسمان پر پہنچ جاتی ہے ۔ دولت، شہرت، عزت اور چاہنے والوں کی بھیڑ، ہر چیز بافراط اس کے گرد جمع ہو جاتی ہے۔ مگر ترقی کی آخری انتہا پر پہنچنا اس کو سکون نہیں دیتا۔ اب وہ ایک تلخ حقیقت (Bitter Truth) کو دریافت کرتی ہے :
That fame has a way of fading, and friends a way of disappearing when they are most needed. یہ کہ شہرت بالآخر ختم ہو جاتی ہے۔ اور دوست بالآخر ساتھ چھوڑ دیتے ہیں جب کہ ایک عورت کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، یہ امریکی خاتون نہایت حسرت بھرے انداز میں کہتی ہے :
Only a woman knows what loneliness is
حقیقت یہ ہے کہ ایک عورت ہی اس بات کو جانتی ہے کہ اکیلا پن کیا ہے۔ ناول کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت اکیلی نہیں رہ سکتی۔ فلمی دنیا کے ذریعہ بڑی بڑی کمائی کرنا اور اپنے لئے ایک خود مختار زندگی حاصل کرنا بظاہر بڑا پرکشش معلوم ہوتا ہے۔ مگر جب عورت کی عمر زیادہ ہوتی ہے۔ جب اس کے ساتھیوں میں اس کے لئے کشش باقی نہیں رہتی تو وہ ایک ناقابل برداشت حادثہ سے دوچار ہوتی ہے۔ اس کے پاس دولت اور مادی ساز و سامان کا انبار ہوتا ہے۔ مگر وہی چیز نہیں ہوتی جس کی ایک عورت کو سب سے زیادہ ضرورت ہے یعنی زندگی کا چین ۔ اس کے پاس سب کچھ ہوتا ہے مگر وہ انسان نہیں ہوتا جو اس کے صبح و شام میں اس کا ساتھی بن سکے۔ وہ ایک ایسے آباد گھر کی مالک نہیں ہوتی جسے وہ اپنا گھر سمجھے :
Here is a loneliness born of independence, of honest indivi- dualism in a society where only dishonesty brings profit. یہ ایک تنہائی ہے جو خود مختار زندگی سے برآمد ہوتی ہے ، ایک دیانت دارانہ فردیت ، ایک ایسے سماج میں جہاں بددیانتی ہی سب سے بڑا نفع بخش سرمایہ ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی کا نظام بے حد نازک ترکیب کے ساتھ بنایا گیا ہے۔ اس میں ادنی تبدیلی بھی صرف بربادی پر ختم ہوتی ہے، جمادات اور نباتات کی دنیا کے لئے ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ کامیابی کا راز یہ ہے کہ فطرت کے بنائے ہوئے نظام سے انحراف نہ کیا جائے ۔ یہاں مطلوب نتیجہ تک پہنچنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ فطرت کے مقررہ ڈھانچہ کو قبول کیا جائے۔ مگر وہی انسان جو جمادات اور نباتات کے معاملہ میں اس حقیقت کی مکمل پابندی کرتا ہے وہ خود اپنی زندگی کے معاملہ میں اس ابدی حقیقت کو بھول جاتا ہے۔ عورت اور مرد کے لئے فطرت کا بنایا ہوا نظام یہ ہے کہ وہ شادی شدہ زندگی گزاریں ۔ ان کی جسمانی ساخت ، ان کے نفسیاتی اور خاندانی مسائل ، ان کے اجتماعی رشتے سب اپنی درستگی کے لئے شادی شدہ زندگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ عورت کا آزاد اور خود مختار ہونا، الفاظ کے اعتبار سے بظاہر بڑا خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔ مگر اس کا عملی تجربہ اتنا ہی بھیانک ہے۔ عورت اپنی جوانی کی عمر میں بڑی آسانی سے اس قسم کے نظریات کا شکار ہو جاتی ہے۔ مگر جب اس کی عمر زیادہ ہوتی ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا راستہ غلط تھا۔ مگر یہ علم اس کو صرف اس وقت ہوتا ہے جب کہ تلافی کا وقت نہیں ہوتا۔ اب اس کے لئے موجودہ دنیا میں جو چیز رہ جاتی ہے وہ صرف یہ کہ کتوں اور خرگوشوں کو پال کر مصنوعی طور پر ان سے دل بہلائے اور بالآخر حسرت اور مایوسی کے قبرستان میں جاکر سو رہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues