Al-Risala · June 1979 · page 20

زندگی بعد موت کا علمی ثبوت

الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۲۰

زندگی بعد موت کا علمی ثبوت

انسبرک (آسٹریا) میں اکتوبر ۱۹۷۸ء کے پہلے ہفتہ میں ایک کانفرنس ہوئی جس میں مغربی یورپ اور شمالی امریکہ کے ایک ہزار سائنس داں اور علماء مذاہب شریک ہوئے۔ اس کانفرنس کا مقصد اس سوال پر غور کرنا تھا کہ کیا موت کے بعد زندگی ہے جن لوگوں نے اس موضوع پر تحقیقات کی ہیں، انہوں نے اپنی تحقیقات کے نتائج پیش کیے۔ کانفرنس کی اکثریت کا رجحان یہ تھا کہ موت کے بعد بھی زندگی کا تسلسل باقی رہتا ہے۔ تاہم کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اس سلسلے میں جو دلائل دئے جاتے ہیں وہ متعلقہ دعوے کے ثبوت کے لئے کافی نہیں ہیں۔ ایک ہفتہ تک بحث جاری رہی۔ آخر میں کانفرنس نے جو رزولیوشن پاس کیا، اس میں حسب ذیل الفاظ میں زندگی بعد موت کا اقرار کیا گیا ہے: There is enough evidence now available to suggest that we cannot rule out an after-life. The Times of India, 9-10 Oct., 1978 زندگی بعد موت کے حق میں اب اتنے کافی شواہد جمع ہو چکے ہیں کہ ہم اس کو خارج از امکان نہیں قرار دے سکتے۔ اس سلسلے میں ایک اہم کتاب رومیو ایر کے نام سے شائع ہوئی ہے:

Dr. Lyall Watson, The Romeo Error

اس کتاب میں مصنف نے کثیر تعداد میں ایسے لوگوں کے واقعات جمع کئے ہیں جن کو ڈاکٹروں نے "مردہ" قرار دے دیا تھا، پھر وہ "زندہ" ہوگئے۔ انھوں نے اپنی "موت" کے تجربات بتائے۔ یہ واقعات مختلف الگ الگ ملکوں سے جمع کئے گئے ہیں۔ مگر ان میں حیرت انگیز یکسانیت ہے۔ مثلاً "موت" کے بعد اپنے مردہ جسم سے الگ اپنے وجود کا احساس۔ ایک تیز روشنی کا دیکھنا۔ اپنے مردہ عزیزوں سے ملاقات، وغیرہ۔ اس یکسانیت کی وجہ سے علماء یہ ماننے پر مجبور ہوئے ہیں کہ ضروران میں کوئی صداقت ہے۔

کانفرنس میں جو مقالات پیش کئے گئے ان میں ایک اہم مقالہ ڈاکٹر کارلوز اوسس (Carlos Osis) کا تھا۔ انھوں نے ایک ہزار ایسے واقعات کا تجزیہ کیا جن میں مرنے والے لوگوں کے آخری لمحات کا ریکارڈ جمع کیا گیا ہے۔ یہ واقعات امریکہ اور ہندوستان کے لوگوں کے تھے۔ ماحول اور جغرافیہ کے غیر معمولی فرق کے باوجود مرنے والوں کے تاثرات انتہائی یکساں تھے۔ مثلاً ہر ایک کو آخر وقت میں ایسے الفاظ سنائی دیئے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو ایک اور دنیا میں داخل ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں جہاں ان کے مرے ہوئے اعزہ پہلے سے موجود ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آدمی جب موت کے بالکل قریب پہنچتا ہے تو اس کے اوپر سے غیب کے پردے ہٹنے لگتے ہیں۔ وہ دوسرے عالم کو دیکھنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے جو کلمات نکلتے ہیں وہ گویا ایک ایسے شخص کے کلمات ہوتے ہیں جو اپنے سفر حیات کو مکمل کرکے اگلی دنیا کے دروازے پر کھڑا ہو گیا ہو۔ سورہ واقعہ کے اس بیان سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ جب جان حلق تک آ جاتی ہے تو "ہم مرنے والے کے پاس ہوتے ہیں مگر تم نہیں دیکھتے۔ " ۸۵

‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues

Printed page