Al-Risala · June 1979 · page 41

خدمت دین کی مشکلات

الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۴۱

اللہ دینے والا ہے جو تمام دینے والوں سے زیادہ دے سکتا ہے، اس لئے یہ لوگ خدا کے خزانے کو چھوڑ کر بس ادبی خزائنوں کے سامنے دامن پھیلائے کھڑے ہیں۔ وہ چھوٹے ذریعہ کو پاکر خوش ہیں۔ حالاں کہ وہ اس سے بڑا ذریعہ بھی حاصل کرسکتے تھے ۔ موجودہ انسان کی مثال اس بے صبرے نوجوان کی سی ہے جس کو گھر پر باپ کی وراثت میں معقول زمین ملی ہو۔ مگر دیہات کے خشک ماحول سے گھبرا کر وہ بمبئی بھاگ جائے اور وہاں واشنگ فیکٹری میں کلر کی حاصل کرکے سمجھے کہ میں نے اپنے رزق کا ذریعہ حاصل کر لیا، حالاں کہ بمبئی کی اس ملازمانہ زندگی میں وہ جو کچھ حاصل کررہا ہے، اس سے بہت زیادہ خود اپنے گھر پر وہ اپنے کھیجوں اور باغوں میں کام کرکے آزادانہ طور پر حاصل کرسکتا تھا۔

۳- اب تیسری ضرورت کا تصور کیجئے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب داعی مشکلات میں پھنس گیا ہو۔ جب حالات سے اس کا ٹکراؤ شروع ہوگیا ہو، جب باطل طاقتیں اس کو کچلنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی ہوں۔ یہ ہمارے احتیاج کا نازک وقت ہوتا ہے یہ وہ وقت ہوتا ہے جب داعی کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔

اس صورت حال کا احساس لے کر جب ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بار بار نازک اوقاتت میں اہل ایمان کی مدد کی ہے۔ بلکہ ایسے وقت میں مدد کے لئے پہنچا، اس نے اپنے اوپر اہل ایمان کا حق قرار دیا ہے۔ كَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ روم ۴۷ اہل ایمان کی مدد کرنا ہمارے اوپر اہل ایمان کا حق ہے بندے کے لئے احتیاج کا انتہائی وقت، آقا کے لئے بھی اس کی طرف متوجہ ہونے کا انتہائی وقت ہوتا ہے حتیٰ کہ نازک اوقا میں وہ یہاں تک کرتا ہے کہ اپنی مخصوص فوج کو اہل ایمان کی کمک کے لئے روانہ کردیتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوا ہے : اِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ جب تم اپنے رب سے مدد مانگ رہے تھے تو اللہ نے جواب دیا کہ میں بِأَلْفِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ (انفال -۹) ہزار فرشتے بھیج کر تمھاری مدد کروں گا یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا کے خادم، حقیقی خادم پر خدا کے دشمن حملہ آور ہوں ۔ انھوں نے اس کا نرغہ کر لیا ہو، اور خدا بس دور سے اس کا تماشا دیکھتا رہے، یہ بالکل نا قابل تصور ہے۔ ایسے مواقع پر تو خدا کی غیرت وحمیت دوسرے مواقع کے مقابلے میں اور زیادہ شدت کے ساتھ بھڑک اٹھتی ہے۔ مگر مدد کا یہ معاملہ صرف ایسے ہی لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو حقیقی خادم اور سچے وفادار ہوں۔ اکتوبر ۱۹۶۲ میں جب تیز پور میں چینی حملہ کا خطرہ بہت بڑھ گیا تھا حکومت ہند کا ایک اعلیٰ افسر وہاں سے ڈر کر قبل از وقت بھاگ گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت نے اس کو ملازمت سے برخاست کر دیا۔ اگر وہ جرات اور وفاداری کے ساتھ اپنے مقام پر ڈٹا رہتا، تو ہو سکتا تھا کہ خطرہ پیش آنے کی صورت میں حکومت کا خاص ہوائی جہاز بھیجا جاتا کہ وہاں جاکر افسر اور اس کے خاندان کو شہر سے نکال لائے۔

یہ چند مثالیں یہ سمجھنے کے لئے کافی ہیں کہ کس طرح خدا نے اپنے دین کے خادموں کی تمام ضروریات ومسائل کا ذمہ لیا ہے۔ مگر یاد رکھئے قرآن میں ہماری ضرورتوں کے بارے میں یہ تو یقین دہانیاں کی گئی ہیں اس کا مطلب لازمی طور پر یہ نہیں ہے کہ خدا کے فرشتے ہر صبح و شام آسمان سے خوان لے کر اتریں گے اور ہمارے سامنے بچھا دیا کریں گے۔ اگر چہ ایسا بھی ہو سکتا ہے مگر عام حالات میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ نہیں ہے۔ ہماری احتیاجات کی تکمیل کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی مدد کا مطلب

‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues

Printed page