خدمت دین کی مشکلات
الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۲۲
دراصل یہ ہے کہ وہ حالات کو اس طرح ہمارے موافق بنا دے گا کہ ہم باآسانی اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔ وہ ایسے امکانات پیدا کرے گا جن کو استعمال کر کے ہم اپنی کار برآری کر سکتے ہوں، وہ لوگوں کے دلوں میں ہمارے متعلق ایسے خیالات ڈالے گا کہ وہ ہمارے کام آسکیں، وہ ہمارے ذہن کو ایسی تدبیروں کی طرف لے جائے گا، جس کے بعد مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ وہ ایمان کی برکت ہے ذہنی اور نفسیاتی صلاحیتوں کو ایسی جلا دے گا کہ کم صلاحیت والے بہتر صلاحیت والوں سے زیادہ کام کر سکیں گے، مقابلے کے وقت وہ ہمارے دل کو مضبوط کرے گا اور دشمن کو مرعوب کر کے شکست کو آسان بنا دے گا۔ مختصر یہ کہ ہمارے کام بھی اوہیں ظاہری حالات کے اندر ہوں گے جیسے سب کے ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایمان کی برکت اور اللہ تعالیٰ کی توجہ کی بنا پر حالات میں کچھ ایسا غیر معمولی پن آ جائے گا کہ کمتر وسائل سے ہم زیادہ کام لے سکیں گے اور معمولی ساز و سامان کے باوجود زیادہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
دوستو! یہ باتیں جو میں نے آپ کے سامنے عرض کی ہیں، یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں ہے اور نہ شاعری ہے۔ یہ ایک سراپا حقیقت کا اظہار ہے۔ اگراس دنیا میں کوئی چیز ممکن ہے تو سب سے بڑا ممکن یہ ہے کہ بندہ جب خدا کی مدد کا محتاج ہو تو خدا اس کی مدد کرے۔ اس زمین و آسمان میں ہر دوسرے امکان کے بارے میں مجھے شبہ ہو سکتا ہے۔ مگر یہ امکان میرے لئے ہر شبہ اور تردد سے بالاتر ہے کہ خدا اپنے ان بندوں کی مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی مدد کے لئے اٹھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ بندے کے اندر کوئی ذاتی طاقت ہے۔ بعض مذاہب کی طرح میں اس نظرئے پر کوئی عقیدہ نہیں رکھتا کہ انسان اپنی ریاضت سے خدا کو یا فطرت کی بر تر طاقتوں کو مسخر کر لیتا ہے۔ میرے نزدیک یہ بالکل لغویات ہے۔ خدا کی مدد کو میں سب سے زیادہ قطعی اس لئے قرار دے رہا ہوں کہ یہ خدا کی اپنی صفت ہے۔ خدا کا رحیم اور قادر ہونا، اس کا خالق اور مالک ہونا لازمی طور پر تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنے عجز اور محتاج بندوں کی مدد کرے۔ یاد رکھئے کہ یہ خدا کی شانِ خدائی کے بالکل خلاف ہے کہ وہ بندوں کو عاجز و مجبور کی حیثیت سے پیدا کرے۔ اور جب بندوں کا عاجز کسی ضرورت کا محتاج ہو تو وہ ان کی مدد نہ فرمائے۔ یہ خدا کی شان کے خلاف ہے۔ اس لئے یہ قطعا نا ممکن ہے ۔
دوستو! اگر آپ کے پاس سننے کے لئے کان ہوں تو خدا کی کتاب پکار رہی ہے من انصاری الی اللہ (کون ہے جو خدا کے کام میں اس کا مددگار بنے) اور اسی کے ساتھ اس میں یہ ضمانت بھی موجود ہے کہ ان تنصر اللہ ینصرکم (اگر تم خدا کی مدد کے لئے اٹھو گے تو خدا تمھاری مدد کرے گا) خدا آپ کو ایسے کام کے لئے پکار رہا ہے جس میں نہ خود آپ کا مددگار ہے۔ دین کی خدمت خدا کی معیت کا راستہ ہے۔ اس کی مدد سے ہم کنار ہونے کا راستہ ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو آپ کو جنت کی طرف لے جاتا ہے، اگر ایک ایسے کام کے لئے بھی آپ نہیں اٹھیں گے تو اور کس کام کے لئے اٹھیں گے۔ اور اس خدمت کے بغیر مرگئے تو خدا کا سامنا کس طرح کریں گے۔
اٹھئے کہ اس سے بڑا کوئی کام نہیں، اٹھئے کہ اس سے بڑی کوئی سعادت نہیں ہو سکتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues