جنت کی دنیا
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۱۰
کو نکال دے گا (انفال، ۳) یہاں صرف ان طیب انسانوں کو بسائے گا جو موجووہ امتحانی مدت ہیں۔ اس کا ثبوت دے چکے ہوں کہ وہ خدا کی جنتی دن کے شہری بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے :
وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ غَيْرَ بَعِيدٍ هَذَا مَا اور جنت ڈر والوں کے لئے قریب لائی جائے گی، وہ کچھ دور تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ نہ رہے گی۔ یہ ہے جس کا وعدہ تم سے کیا جاتا تھا۔ وہ ہر ایسے وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِيبٍ ( ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ ذَلِكَ يَوْمُ الْخُلُودِ شخص کے لئے ہے جو رجوع ہونے والا یا یاد رکھنے والا ہو، جو بغیر لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ فِيهَا وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ دیکھے اللہ سے ڈرتا ہو اور اور ایسا دل لایا جس میں رجوع ہے۔ ق ۳۱ - ۳۵ جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔ یہ دن ہے ہمیشہ رہنے کا۔ ان کے لئے وہاں سب کچھ ہے جو وہ چاہیں اور ہمارے پاس اور زیادہ بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ کو اپنی جنت میں بسانے کے لئے وہ انسان مطلوب ہے جو اللہ کو نہ دیکھتے ہوئے بھی اس طرح رہے جیسے کوئی اللہ کو دیکھ کر رہتا ہے۔ اللہ کی بڑائی اور اس کے کمالات آدمی کے ذہن پر اس طرح چھا جائیں کہ وہ ہر وقت اس کو یاد آنے لگے۔ اس کا دل خدا کی باتوں سے لبریز رہے اور اس کی زندگی خدا کے گرد گھومنے لگے۔ ایک آقا اپنے اس ملازم سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے جو آقا کی غیر موجودگی میں بھی مکمل طور پر اس کا وفادار بنا رہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کو وہ انسان سب سے زیادہ پسند ہے جو اللہ کو نہ دیکھ کر بھی اس طرح رہتا ہو جیسے وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے، جو اللہ کی جنت اور جہنم کو نہ دیکھتے ہوئے بھی اس طرح ان کی طرف دل لگائے رہے جیسے کہ جنت اور جہنم اس کے سامنے کھڑی ہوئی ہیں۔
جس آدمی کے اندر یہ صفات نہ ہوں وہ گویا خدا کی معیاری دنیا کے لئے بے جوڑ ہے۔ وہ ایک ایسی دنیا میں رہنے کے قابل نہیں جہاں کی ہر چیز فطرت کی صراط مستقیم پر چل رہی ہو۔ جنت کی حسین دنیا میں رہنے کا اہل وہی ہے جو خدا کو اس طرح اپنا معبود بنائے کہ وہی اس کی زندگی بن جائے۔ جو اپنے شعور کو اس حد تک ترقی دے کہ اپنے آپ کو اپنے سے الگ ہو کر دیکھنے لگے۔ جو خود مختار ہو کر بھی پابند زندگی گزارے، جو آزاد ہو کر بھی اپنی آزادی کو صحیح حدود میں استعمال کرے۔ یہ بلند نظری اور حقیقت پسندی کا وہ مقام ہے جہاں آدمی نفسیاتی پردوں سے باہر آ کر سوچتا ہے۔ جہاں وہ اپنے آپ کو ذاتی نگاہ سے نہیں بلکہ حقیقت واقعہ کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ جہاں وہ مجبور نہ ہوتے ہوئے بھی ہر قدم پر اپنے آپ کو اپنے آقا کے آگے جھکا دیتا ہے۔ جہاں مخالف ترغیبات کے باوجود وہ اپنے آپ کو اللہ کے حدود پر قائم رکھتا ہے۔ جہاں ڈھٹائی کے مواقع ہوتے ہوئے بھی وہ سرتا پا اپنے حق کے آگے ڈال دیتا ہے۔ مالک کائنات کے ظہور کے بعد آدمی کا جو حال ہو گا دہ حال اس کا اسی وقت ہو جاتا ہے جب کہ مالک کائنات ابھی غیب کے پردہ میں ہے۔ آج کی دنیا میں حق پرستی اور معقولیت کی کوئی قیمت نہیں۔ آج ساری قیمت صرف طاقت میں ہے۔ جنت کی دنیا وہ دنیا ہوگی جہاں حق پرست، اور معقولیت قیمت والی چیزیں بن جائیں گی۔ اس لئے اس کا شہری وہی بن سکتا ہے جس نے موجودہ دنیا میں اپنے اندر ایسے انسان کی پرورش ہو جو حق کو ماننے والا اور معقولیت کو تسلیم کرنے والا ہے۔ اللہ کی ناپسندیدہ چیزیں گویا اللہ کا "شجرہ ممنوعہ میں جنت میں قیام
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues