جنت کی دنیا
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۱۱
کا اجازت نامہ اسی کو ملے گا جو دنیا میں اپنے عمل سے ثابت کرے کہ وہ آزاد اور خود مختار ہو کر بھی ممنوعہ درخت کے قریب نہیں جاتا۔ جو شخص دنیا کے امتحانی مرحلہ میں یہ ثبوت دے کہ وہ لغو اور تائیم سے دور رہنے والا آدمی ہے ، اسی سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ جنت کے لغو اور تائیم سے خالی ماحول میں مناسب طور پر رہ سکے گا۔ جو شخص اس قسم کے ضبط نفس، انسانی شرافت اور بلند کرداری کا ثبوت نہ دے، اس کو جنت میں آبادی کا اہل نہیں قرار دیا جائے گا، بلکہ اس کو دور پھینک دیا جائے گا جہاں وہ محروم اور بے یار و مددگار ہو کر ابدی عذاب سہتا رہے۔ (انفال ۳۷) جنت کی تعمیر آخرت وہ دن ہے جب کہ ، قرآن کے الفاظ میں ، اشجار خبیثہ کو اس زمین سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ اور صرف اشجار طیبہ کو یہاں باقی رہنے دیا جائے گا جو خدا کے خصوصی انتظامات کے تحت یہاں ہمیشہ کے لیے پھلیں پھولیں گے۔ زمینی جنت سے برے لوگوں کو نکالنے اور وہاں اچھے لوگوں کو بسانے کا ذکر بائبل میں ان الفاظ میں آیا ہے : ”تو بد کرداروں کے سبب سے بیزار نہ ہو۔ اور بدی کرنے والوں پر رشک نہ کر ۔ کیونکہ وہ گھاس کی طرح جلد کاٹ ڈالے جائیں گے۔ خداوند میں مطمئن رہ اور صبر سے اس کی آس رکھ۔ قہر سے باز آ اور غضب کو چھوڑ دے۔ کیوں کہ بد کردار کاٹ ڈالے جائیں گے۔ لیکن جن کو خداوند کی آس ہے، ملک کے وارث ہوں گے۔ تھوڑی دیر میں شریر نابود ہو جائے گا ۔ تو اس کی جگہ کو غور سے دیکھے گا، پردہ نہ ہوگا۔ لیکن حلیم ملک کے وارث ہوں گے۔ اور سلامتی کی فراوانی سے شادماں رہیں گے۔ شریروں کے بازو توڑے جائیں گے۔ لیکن خداوند صادقوں کو سنبھالتا ہے۔ کامل لوگوں کے ایام کو خداوند جانتا ہے۔ ان کی میراث ہمیشہ کے لئے ہوگی ۔ جن کو وہ برکت دیتا ہے وہ زمین کے وارث ہوں گے۔ اور جن پر وہ لعنت کرتا ہے وہ کاٹ ڈالے جائیں گے ۔ بدی کو چھوڑ دے اور نیکی کر۔ اور ہمیشہ تک آباد رہ۔ کیوں کہ خداوند انصاف کو پسند کرتا ہے۔ اور اپنے مقدسوں کو ترک نہیں کرتا۔ وہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہیں۔ پر شریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی۔ صادق زمین کے وارث ہوں گے۔ اور اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔ خداوند کی آس رکھ اور اسی کی راہ پر چلتا رہ۔ اور وہ تجھے سرفراز کرکے زمین کا وارث بنائے گا۔ (زبور ، داؤد کا مز مور ۳۷)
قیامت کے دھماکے کے بعد جو دنیا بنے گی وہ ہر قسم کی محدودیت اور ناموافق حالات سے پاک ہوگی۔ حدیث میں آیا ہے : عن ابی سعید ، ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، آخرت میں ایک قال ينادی مناد ان لكم ان تصحوا فلا تسقموا ابدا پکارنے والا جنت والوں سے پکار کر یہ کہے گا کہ اب تم وان لكم ان تحيوا فلا تموتوا ابدا وان لكم ان تشبوا فلا ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہو گے ۔ اب تم ہمیشہ زندہ تھرموا ابدا وان لكم ان تنعموا فلا تلبسوا ابدا رہو گے کبھی تم کو موت نہ آئے گی ۔ اب تم ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہوگے ۔ اب تم ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی محتاج نہ ہوگے۔
قرآن و حدیث میں کثرت سے ایسے اشارے ملتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ کس طرح وہ تمام ناخوش گوار اور ناموافق چیزیں آخرت
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues