Al-Risala · July 1979 · page 12

New Scientist, London, February 8, 1978, p. 389.

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۱۲

کی دنیا سے حذف کردی جائیں گی جو آج ’کبد‘، بن کر ہم کو گھیرے ہوئے ہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی محنت ومشقت کے بعد کوئی چیز پاتا ہے، جنت میں صرف اشتہار (زخرف ۸۱) کسی چیز کو پانے کے لئے کافی ہوگی۔ آخرت کی دنیا ہر قسم کے دکھ اور ہر طرح کے اندیشوں سے بالکل خالی ہوگی (احقاف ۱۳) اہل جنت جب اس کو دیکھیں گے تو پکار اٹھیں گے: الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن (فاطر ۳۴) سب تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ اسی کے ساتھ زمین کے امکانات کو بڑھانے کے لئے اس کو بڑا کر دیا جائے گا (إذا الأرض مدت) اس کی ایک صورت یہ ہے کہ غالباً پہاڑوں اور سمندروں کو ختم کرکے پوری زمین کو مسطح کر دیا جائے گا، جس کے اشارے قرآن میں متعدد مقامات پر ملتے ہیں۔ اسی کے ساتھ غالباً اس کے حجم میں بھی اضافہ کر دیا جائے گا۔ اس کی تصدیق موجودہ جغرافی مطالعہ سے بھی ہوتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں ایک مستقل نظریہ توسیع زمین کا نظریہ (Expanding Earth Theory) کے نام سے وجود میں آیا ہے۔ جغرافی ماہرین نے اندازہ کیا ہے کہ پچھلے دو سو ملین سال میں ہماری زمین تقریباً بیس فی صد تک غبارہ کی طرح پھول گئی ہے۔ اور اب بھی پھولتی اور بڑھتی جارہی ہے:

New Scientist, London, February 8, 1978, p. 389.

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت ہماری موجودہ زمین ہی پر تعمیر ہوگی (زمر ۷۴) آج یہ زمین انسان کے چارج میں ہے اس وقت خدا براہ راست اس کو اپنے قبضے میں لے لے گا (مریم ۴۰) اچھے اور برے ایک دوسرے سے الگ کردیئے جائیں گے (روم ۱۳) اور زمین کو اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کے حوالے کردے گا (انبیاء ۱۰۵) اس وقت زمین براہ راست خدا کے نور سے جگمگائے گی (زمر ۶۹) زمین پر جنتی ماحول پیدا کرنے کے لئے اس میں بہت سی تبدیلیاں کی جائیں گی (ابراہیم ۴۸) اس کے اوپر سے پہاڑوں کو ختم کرکے ہموار کر دیا جائے گا (طہ ۱۰۴) دریاؤں اور سمندروں کو سطح زمین کے نیچے کر دیا جائے گا (انفطار ۳) اور اس کے بعد زیر زمین آب رسانی کا نظام قائم کیا جائے گا (تجري من تَحْتِہَا الأنهار) زمین کا آبادی کا رقبہ موجودہ رقبہ سے کئی گنا زیادہ بڑھ جائے گا (انشقاق ۳) ساری زمین ہموار کھلی ہوئی ہو جائے گی (کہف ۴۸) سخت سردی اور سخت گرمی کو ختم کرکے موسموں کو بالکل معتدل کر دیا جائے گا (دہر ۱۳) اس قسم کی اور بہت سی خوش گوار تبدیلیاں کرنے کے بعد زمین پر نہایت عمدہ مکانات، بہترین پارکوں اور باغوں میں بنائے جائیں گے (صف ۱۲) وہاں کا ماحول بے حد ستھرا ماحول ہوگا جو ہر قسم کی لغویات وخرافات سے بالکل پاک ہوگا (واقعہ ۲۵) وہاں اللہ کی بڑائی کے سواکسی اور کی بڑائی کا چرچا نہ ہوگا (زمر ۷۳) وہاں ہر طرف امن وسلامتی کا ماحول ہوگا (واقعہ ۲۰) وہاں عالی شان کثیر منزلہ عمارتیں ہوں گی (زمر ۲۰) اہل جنت کو ہر قسم کی شاہانہ نعمتیں اور عزت و مرتبہ حاصل ہوگا (دہر ۲۰) وہاں انسان کی تمام مطلوبہ لذتیں مزید اضافہ کے ساتھ موجود ہوں گی (حم سجدہ ۳۱) وہاں کی مشغولیتیں بھی سب کی سب فرحت بخش ہوں گی (يس ۵۵) جب زمین کا یہ نیا انتظام ہوگا تو زمین سے تمام برے انسان اکھاڑ پھینکے جائیں گے (ابراہیم ۴۷) زمین پر صرف وہ لوگ باقی رہیں گے جو موجودہ زندگی میں باقیمت ثابت ہوئے ہوں (رعد ۱۷) جنھوں نے اپنی پہلی زندگی میں عبد صالح کی حیثیت سے زندگی گزاری ہو (انبیاء ۱۰۵) اصل جنت غالباً اسی زمین پر قائم ہوگی مگر اہل جنت کی پہنچ ساری کائنات

‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues

Printed page