Al-Risala · July 1979 · page 13

New Scientist, London, February 8, 1978, p. 389.

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۱۳

تک ہوگی (حدید (۲۱) وہ پوری کا ئنات میں جہاں چاہیں گے دیکھیں گے اور جس سے چاہیں گے بات کریں گے (صادق وہ جہاں چاہیں گے باسیانی جا سکیں گے (زمر ۷)۔ جس طرح آج کی دنیا میں پانی اور ہوا اور روشنی اور دوسرے بے شمار سامانِ خدائی انتظام کے تحت مسلسل فراہم کئے جا رہے ہیں، اسی طرح جنت میں انسان کی تمام مرغوب چیزیں اس کو خدائی انتظام کے تحت فراہم ہوں گی۔

نیو انگلینڈ کے طبی جرنل (Journal of Medicine) میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ صنعتی کثافت نے امریکی باشندوں کی صحت کے لئے کس طرح کے مسائل پیدا کر دیئے ہیں ان میں سے ایک کے الفاظ میں یہ ہے: Industrial pollution has raised the lead content in the bodies of Americans to 500 times the human body's natural level. The Times of India, April 29, 1979. انسانی جسم میں فطری طور پر جست کی جو مقدار ہوتی ہے، اس کے مقابلہ میں امریکیوں کے جسم میں پانچ سو گنا زیادہ جست ہو گیا ہے۔ اور اس کی وجہ صنعتی کثافت ہے ، اس قسم کے بے شمار مسئلے ہیں جو موجودہ زمانہ میں صنعتی کثافت نے پیدا کئے ہیں ۔ ہماری مشینی صنعت اگر ایک طرف ہماری ضرورت کے سامان تیار کرتی ہے تو اس کے ساتھ وہ پانی کو اور فضا کو اپنی کثافتوں سے بھر دیتی ہے۔ انسان ابھی تک ایسی ٹیکنالوجی دریافت نہ کر سکا جو کثافت پیدا کئے بغیر تمدن کی گاڑی چلا سکے قدرت ہماری زندگی کے تمام سامان بے حساب مقدار میں مہیا کرتی ہے اور اس کے لئے ان گنت صنعتیں چلاتی ہے۔ درخت سے لے کر زندہ اجسام تک اور ذرہ سے لے کر شمسی اور کہکشانی مجموعوں تک ہر چیز متحرک ہے، ہر چیز انتہائی پیچیدہ صنعتی نظام ہے جو ہمارے لئے زندگی کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ مگر اتنے بڑے پیمانے پر صنعتی سرگرمیاں جاری ہونے کے باوجود ہمارے لئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ یہاں حرکت ہے مگر شور نہیں۔ یہاں سامان تیار ہو رہے ہیں مگر دھواں نہیں۔ یہاں پرانی چیزیں نئی صورت اختیار کرتی رہتی ہیں مگر کہیں کوئی گندگی نہیں۔ اللہ کی اس عظیم الشان صنعت گاہ میں صرف چند تمدنی چیزیں انسان کے اوپر چھوڑ دی گئی ہیں۔ مثلاً مکان ، سواری ، برتن، کپڑا، فرنیچر وغیرہ ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی خام اشیاء بنائیں اور ان کو تیار شدہ سامان کی صورت دینے کے لئے بھی اعلیٰ درجہ کے مواقع فراہم کر دئے ۔ اور اس کے بعد انسان کے ذمہ یہ کام سپرد کر دیا کہ وہ ان کو استعمال کر کے اپنے لئے تمدنی اشیاء تیار کرے۔

نظامِ کائنات میں انسان کی اس محدود شرکت نے خشکی اور تری کو کثافتوں سے بھر دیا ہے آخرت میں جب جنتی دنیا بنے گی تو تمدن کی تعمیر کا کام بھی اللہ براہ راست اپنے انتظام میں لے لے گا۔ آج ہم اپنے ”مکانات“ خود بناتے ہیں۔ اس وقت بنے بنائے مکانات (زمر (۲۰) ہم کو خدا کی طرف سے مہیا کئے جائیں گے جس طرح آج بھی بے شمار قدرتی چیزیں بنی بنائی حالت میں ہم کو دی جا رہی ہیں۔ اس وقت ایسی سواریاں دی جائیں گی جو بے حد تیز رفتار ہوں گی مگر وہ زمین کی مانند ہوں گی جو ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ رہی ہے مگر کوئی شور نہیں کرتی۔ اس وقت تمدنی کارخانے قائم ہوں گے ۔ مگر وہ درخت کے کارخانہ کی مانند ہوں گے جو فضا کو آلودہ کرنے کے بجائے اس کو آکسیجن سے معطر کرتا رہتا ہے۔ وہاں آدمی کھائے گا اور پئے گا۔ مگر اس کا جسمانی نظام کوئی غلاظت نہیں نکالے گا۔ بلکہ پھول کے نظام کی مانند ہوگا جو اپنے اندر کی کثافت کو خوشبو کی صورت میں خارج کرتا ہے۔ وہاں ہر قسم کی بہترین سرگرمیاں جاری ہوں گی ۔ مگر وہ کسی قسم کی ناخوش گواری

‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues

Printed page