اسلامی جہاد کیا ہے
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۱۹
اسلامی جہاد کیا ہے
جہاد کو اسلام میں افضل ترین عبادت کہا گیا ہے۔ اس لئے ہر ایک اپنی سرگرمیوں کو افضل ترین عمل کا درجہ دینے کے لئے اس کو جہاد کا نام دے دیتا ہے۔ کوئی ملت کے مادی حقوق کے لئے دوسری قوموں کے خلاف احتجاج اور مطالبات کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کو اسلامی جہاد کہہ رہا ہے اور کوئی آزادی قوم اور استخلاص وطن کے لئے لڑائی لڑنے کو۔ کوئی حکومت اسلامی کے قیام کے نام پر مسلمانوں کے اندر باہمی قتل و خون جاری کرنے کو جہاد قرار دے رہا ہے اور کوئی بدعت اور مشرکا رسوم کے خلاف مناظرہ اور مجادلہ کرنے کو۔ کوئی دوروں اور تقریروں کے مظاہرے کرکے مجاہد اسلام کا لقب لے رہا ہے اور کوئی اسلام کو دنیوی ہنگاموں کا موضوع بناکر۔ مگر یہ تمام صورتیں جہاد کے لفظ کو غلط استعمال کرنے کی صورتیں ہیں۔ یہ اسلامی جہاد نہیں ہے۔ بلکہ جہاد کے نام پر اسلام کو قتل کرنا ہے۔ یہ خود اللہ کی راہ کے خلاف جہاد ہے نہ کہ اللہ کی راہ میں جہاد۔
قوم و وطن کی پکار اسلام کے نزدیک جاہلیت کی پکار ہے پھر اس کو اسلامی جہاد کس طرح کہا جا سکتا ہے۔ مسلمانوں کے لئے دوسری قومیں مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں اور مدعو اقوام سے دنیوی اجر کا طالب ہونا صریح طور پر سنت انبیاء کے خلاف ہے پھر اس قسم کے حقوق کے لئے مطابقاتی مہم چلانا جہاد کس طرح ہو سکتا ہے۔ جدال اور مناظرہ سے اسلام میں صریح طور پر منع کیا گیا ہے اور حکمت اور نصیحت کے ساتھ تبلیغ کا حکم دیا گیا ہے۔ ایسی حالت میں بحث و جدال کے اکھاڑے قائم کرنا کیوں کر خدا کا مطلوبہ جہاد ہو سکتا ہے۔ اسلام کے نام پر جلسوں اور جلوسوں کی دھوم مچانا اور دنیوی نشانوں کے لئے تحریکیں برپا کرنا رسول اور اصحاب رسول کے طریقہ کے بالکل خلاف ہے۔ پھر ایسے خلاف سنت کام کو اسلامی جہاد کا نام دینا کس طرح صحیح ہوگا نہ مسلمانوں کے درمیان باہمی لڑائی کو ہر حال میں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ جمہور کا اتفاق ہے کہ مسلم حکمرانوں کے خلاف بغاوت کرنا اور ان کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے جنگ کرنا حرام ہے۔ خواہ ان کی امارت بجبر قائم ہوئی ہو اور خواہ مسلم حکمران فاسق اور ظالم ہی کیوں نہ ہو ( امام نووی ، شرح مسلم) ایسی حالت میں " ظالم حکمران کو ہٹانے کے نام پر مسلمانوں کا دو جتھوں میں تقسیم ہونا اور باہم ایک دوسرے کے خلاف جنگ کرنا کیوں کر وہ چیز ہو سکتی ہے جس کو جہاد فی سبیل اللہ کہا جائے ۔ حدیث میں بلا شبہ ظالم سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کو افضل الجہاد بتایا گیا ہے مگر اس سے مراد ظالم حکمران کے سامنے حق کی ایک بات کہنا ہے نہ کہ اس کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چلانا۔ جہاد کے معنی عربی زبان میں ہیں: بھر پور کوشش کرنا، پوری طاقت صرف دینا۔ یہ لفظ، عمومی استعمال میں، ایسے موقع کے لئے بولا جاتا ہے جب کسی مقصد کے حصول کے لئے اپنی ساری کوشش لگا دی جائے۔ قرآن میں ہے اقسموا بالله جهد ایمانهم (فاطر ۱۲) یعنی بہت زور لگا کر قسم کھاتا۔ وان جاهد الى علی ان تشرك بي (لقمان 15 ) یعنی مشرکانہ طریقہ پر قائم رکھنے کے لئے بہت کوشش کرنا۔ جاهد و افینا (عنکبوت (۶۹) یعنی اللہ کے لئے مشقتیں جھیلنا۔ لا يجدون الاجهدهم (توبه ۷۹) یعنی محنت کی کمائی ۔ ان استعمالات سے اسلامی جہاد یا جہاد فی سبیل اللہ کا مطلب
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues