Al-Risala · July 1979 · page 20

اسلامی جہاد کیا ہے

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۲۰

سمجھا جاسکتا ہے۔ اس مطلب ہے اللہ کے دین کو اختیار کرنے کے بعد اس کی راہ میں وہ ساری محنت و قوت صرف کی جائے جس کی دین کو ضرورت ہو۔

اللہ کا دین کیا ہے۔ وہ یہ ہے گویا آدمی اللہ کو خالق اور مالک اور معبود تسلیم کرے۔ وہ اپنی محبت اور عقیدت میں خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ وہ اسی سے ڈرے اور اسی پر ہر قسم کا اعتماد کرے۔ اللہ کو آدمی جب اس طرح اپنی نفسیات میں شامل کرتا ہے تو اس کے اندر ایک نئی زندگی وجود میں آتی ہے۔ اب اس کے لئے سب سے زیادہ قابل اطاعت چیز وہ ہو جاتی ہے جو اللہ کے رسول کے ذریعہ اس کو ملی ہو۔ اس کے لئے سب سے زیادہ اہم بات یہ ہو جاتی ہے کہ وہ خدا کے یہاں عزت اور خوشی پانے کو اصل کا کامیابی سمجھے اور دنیا کی کامیابی اس کی نظر میں بے وقعت ہو جائے۔ خدا اور رسول کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنے کو وہ جنت کی چلنا سمجھتا ہے۔ اور اس کے خلاف چلتے ہوئے اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جہنم کے شعلوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کی تو جہات کا مرکز اللہ بن جاتا ہے۔ اس کی عبادتیں اللہ کے لئے خاص ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنے اخلاق اور معاملات میں اللہ کے حرام و حلال کا لحاظ کرنے لگتا ہے، خدا اپنے تمام جلال و جبروت کے ساتھ اس کا نگران بن جاتا ہے جس کی نگرانی میں وہ تمام زندگی گزارتا رہتا ہے، یہاں تک کہ مرکز اس کے پاس پہنچ جاتا ہے۔

یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں آدمی ہر وقت نفسانی ترغیبات کے زیر اثر رہتا ہے۔ اس کے علاوہ اس دنیا میں اکثر شیطان کا اور باطل پرستوں کا غلبہ رہتا ہے۔ یہی صورت حال اس چیز کی ضرورت پیدا کرتی ہے جس کو جہاد کہا گیا ہے۔ آدمی کو ہر قسم کی ترغیبات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرتے ہوئے دین پر قائم رہنا پڑتا ہے۔ اس کو ایک غیر خدائی دنیا میں خدا والا بن کر جینا پڑتا ہے۔ اپنے کو دیندار بنانے کے لئے اپنے کو مجاہد بنانا پڑتا ہے۔ دین پر قائم رہنے کے لئے انھیں غیر معمولی کوششوں کا نام جہاد ہے۔

قرآن میں اسلامی جہاد کا لفظ تین مواقع کے لئے استعمال کیا گیا ہے: استقامت، دعوتی جدوجہد اور قتال فی سبیل اللہ۔ جہاد اولاً اس بات کا نام ہے کہ اللہ کے دین کو اختیار کرنے میں جو مشکلات پیش آئیں ان کو جھیلتے ہوئے اپنے آپ کو دین پر قائم رکھا جائے، مال کا نقصان ہو تو اس کو برداشت کیا جائے۔ عزت اور حیثیت کو خطرہ ہو تو اس کو گوارا کیا جائے۔ جسمانی تکلیف پہنچے تو اس پر صبر کیا جائے۔ نفس کو روکنے اور دبانے کی ضرورت ہو تو اس سے دریغ نہ کیا جائے۔ حالات کی کوئی بھی شدت آدمی کو حق کی راہ سے ہٹانے والی ثابت نہ ہو:

مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لَآتٍ وَهُوَ جو شخص اللہ سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو اللہ کا وعدہ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ - وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ یقیناً آنے والا ہے اور وہ سنتا اور جانتا ہے اور جو شخص إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ - وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا محنت اٹھائے تو وہ اپنے ہی لئے محنت اٹھاتا ہے۔ اللہ کو جہان الصَّالِحَاتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَحْسَنَ والوں کی حاجت نہیں۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ (عنكبوت ٦ - ٥) کئے تو ہم ان کی برائیاں ان سے دور کر دیں گے اور بدلہ دیں گے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues

Printed page