اسلامی جہاد کیا ہے
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۲۱
ان کو بہتر سے بہتر کاموں کا۔
اس جہاد کا میدان جنگ سے کوئی تعلق نہیں، یہ زندگی کے ہر میدان میں ہر وقت جاری رہتا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا ہے: ان الرجل ليجاهد وما ضرب يوما من الدهر آدمی بلاشبہ مجاہد ہوتا ہے حالاں کہ وہ کبھی ایک دن کے بسيف (تفسیر ابن کثیر، ثالث (۲۹) لئے بھی تلوار نہیں چلاتا۔
جہاد کی دوسری صورت وہ ہے جو اللہ کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے کی جاتی ہے۔ یہ ایک مشکل ترین کام ہے اور سخت ترین جدوجہد کے ذریعہ اس کو انجام دینا پڑتا ہے۔ اسی لئے قرآن میں دعوتی مہم کو جہاد کہا گیا ہے: وَلَقَدْ صَرَّفْنَاهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوا فَأَبَى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا اور ہم نے ان کے درمیان طرح طرح سے نصیحت بیان کی، تاکہ وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ نَّذِيرًا ۚ فَلَا تُطِعِ وہ دھیان کریں۔ مگر اکثر لوگوں نے انکار ہی کیا اور اگر ہم چاہتے الْكَافِرِينَ وَجَاهِدْهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا ۚ تو ہم ہر بستی میں کوئی ڈرانے والا اٹھاتے۔ پس تو منکروں کا کہا نہ مان اور قرآن کے ذریعہ ان پر خوب کوشش کر۔
(فرقان ۵۲ - ۵۰)
یہ دعوت و تبلیغ امت مسلمہ کا دراصل مشن ہے۔ ختم نبوت کے بعد امت کی یہ لازمی ذمہ داری ہے کہ دنیا کی تمام قوموں تک خدا کے پیغام کو پہنچائے، اس کے لئے ہر قسم کی مشقتوں کو برداشت کرے اور وقت اور مال سے لے کر جسم و جان کی تمام طاقتوں کو اس کی راہ میں لگا دے:
وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ ۚ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ۚ مِّلَّةَ أَبِيكُمْ اور اللہ کے کام میں خوب کوشش کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔ اس نے تم کو چن لیا ہے، اور دین میں تم إِبْرَاهِيمَ ۚ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَفِي هَذَا پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ تمھارے باپ ابراہیم کی ملت۔ اللہ لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ نے تمھارا نام مسلم رکھا ہے پہلے سے اور اس قرآن میں، تاکہ رسول عَلَى النَّاسِ ۚ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوا تم پر بتانے والا ہو اور تم لوگوں پر بتانے والے بنو۔ پس نماز بِاللَّهِ هُوَ مَوْلَاكُمْ ۖ فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو مضبوط پکڑو۔ وہی تمھارا (حج آخر) کارساز ہے۔ پس کیسا اچھا کارساز ہے اور کیسا اچھا مددگار۔
جہاد کی تیسری صورت قتال ہے۔ اہل ایمان مخالفوں کی طرف سے آئی ہوئی مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں۔ وہ ہر طرح کی مشقتیں برداشت کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھتے ہیں۔ تاہم کبھی ایسا ہوتا ہے کہ منکرین حق عمومی قسم کی مخالفانہ کارروائیوں سے گزر کر جنگ و قتال کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب ان کی طرف سے ابتداء (توبہ ۱۳) ہو جائے۔ (الجہاد ان تقاتل الكفار اذا القيتيم، ترغيب وترهيب) نیز اہل اسلام اپنی تنظیم اور اپنے وسائل اور مواقع کے لحاظ سے اس پوزیشن میں ہوں کہ کامیاب دفاع کر سکیں تو وہ مخالفین کے جنگی چیلنج کا جواب میدان جنگ میں دیتے ہیں۔ یہ جنگ اہل ایمان کے لئے معروف قسم کی کوئی جنگ نہیں ہوتی۔ یہ اصل ان کے صبر و استقامت کا ایک امتحان ہوتا ہے جو حالات کے اعتبار سے کبھی انھیں پیش آتا ہے۔ اہل ایمان اپنے ایمان پر قائم رہتے ہوئے اور اپنی
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues