اسلامی جہاد کیا ہے
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۲۲
دعوتی ذمہ داریوں کو انجام دیتے ہوئے اول دن سے ایک " جنگ " سے دوچار رہتے ہیں۔ یہ جنگ ابتدا اپنے نفس کے محرکات سے، شیطان کی ترغیبات سے اور گرد و پیش کے مخالفانہ حالات کے مقابلہ میں ہوتی ہے۔ عمومی الفاظ میں اس کو صبر کہا جاتا ہے۔ یہ صبر اور مصابرت جب بعض حالات میں شدید تر صورت اختیار کرلے تو اسی کا نام جہاد ہے۔ یہ آدمی کے ایمان اور استقامت علی الحق کا شدید ترین امتحان ہے۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دشمن سے جنگ کی تمنا نہ کرو۔ البتہ اگر جنگ پیش آجائے تو پوری پامردی کے ساتھ مقابلہ کرو (لا تتمنوا لقاء العدو واسألوا الله العافية فإذا لقيتم فاصبروا، متفق علیہ ) جہاد بالسّیف کے سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے : انفروا خفافا وثقالا وجاهدوا بأموالكم وأنفسكم اے ایمان والو نکلو ہلکے اور بھاری اور لڑو اپنے مال في سبيل الله ذلكم خير لكم إن كنتم تعلمون 5 سے اور اپنی جان سے اللہ کی راہ میں۔ یہ تمہارے لئے تو بہ - ۱۴ بہتر ہے، اگر تم سمجھو۔
حدیث کے الفاظ میں، جنت کو مکروہات سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ ایک آدمی جب جنت کی طرف اپنا سفر شروع کرتا ہے تو اس کو بے شمار قسم کے ناموافق حالات اور رکاوٹوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ان دشواریوں اور ناخوش گواریوں کو عبور کر کے اپنا سفر جاری رکھنے میں جو محنت صرف کرنی پڑتی ہے اسی کا نام جہاد ہے۔ ایک شخص جب اپنے بنے ہوئے نقشہ کو توڑ کر حق کو اختیار کرتا ہے تو وہ جہاد کرتا ہے۔ جب وہ اپنے مقابلہ میں دوسرے کے فضل کا اعتراف کرنے کے لئے اپنی " انا " کو کچلتا ہے تو وہ جہاد کرتا ہے۔ جب وہ " غیب " کے فائدہ کے شوق میں ظاہری عزت اور فائدہ کو قربان کرتا ہے تو وہ جہاد کرتا ہے۔ جب وہ الفاظ کا ذخیرہ ہوتے ہوئے خدا کے خوف سے اپنی زبان کو بند کر لیتا ہے تو وہ جہاد کرتا ہے ، جب وہ خدا کی خاطر شہرت کے راستوں کو چھوڑ دیتا ہے اور گناہی کے راستوں کو اپنے لئے پسند کر لیتا ہے تو وہ جہاد کرتا ہے۔ اسی طرح پوری زندگی میں آدمی آسانی کے مقابلہ میں دشواری کو ترجیح دیتا ہے ۔ وہ اپنی انا کو غذا دینے کے بجائے اپنی انا کو مارتا ہے۔ وہ مشکلات کو عذر بنانے کے بجائے مشکلات کو عبور کرنے کے لئے اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے۔ یہی جہاد ہے جو مومن کی پوری حیات میں جاری رہتا ہے۔ اسی جہد کا ایک امکانی مرحلہ جنگ ہے۔ تاہم عام جہاد اور جنگ میں یہ فرق ہے کہ عام جہاد تو ہر حال میں اور ہر مومن کی زندگی میں ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ جب کہ جنگ مخصوص حالات میں پیش آتی ہے اور مخصوص شرائط کی تکمیل کے بعد لڑی جاتی ہے۔ ان حالات اور ان شرائط کے بغیر اگر کوئی جنگی جہاد شروع کر دے تو وہ جہاد نہیں ہو گا بلکہ فساد ہو گا جس سے اللہ اور اُس کا رسول بری ہیں۔
جہاد غیر خدا پرست دنیا میں خدا پرست بننے کی کوشش ہے۔ یہ ایک طرف اپنے آپ کو نفس اور شیطان کی ترغیبات سے روکنا ہے اور دوسری جانب خارج سے سامنے آنے والی رکاوٹوں کی مزاحمت کرتے ہوئے اپنے رب کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھنا ہے فتنوں سے بھری دنیا میں ایک بندہ اپنے رب کے راستہ پر چلنے کے لئے جو کوشش کرتا ہے اسی کا نام جہاد ہے جو بھی آدمی کے اپنے اندر ہوتی ہے اور کبھی اس کے باہر۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues