Al-Risala · July 1979 · page 23

اسلامی جہاد کیا ہے

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۲۳

بعض لوگوں کے نزدیک جہاد یہ ہے کہ وقت کے حکمرانوں سے لڑ کر ان سے ” اقتدار کی کنجیاں “ چھینی جائیں تاکہ اسلام ایک مکمل ریاستی نظام کی حیثیت سے زمین پر نافذ کیا جاسکے۔ مگر اس قسم کے نظریہ کا کوئی تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ جہاد سے۔ قرآن و حدیث کے پورے ذخیرہ میں کوئی ایک نص بھی ایسی موجود نہیں ہے جس سے اس انقلابی جہاد کا حکم نکلتا ہو۔ قرآن کے مطابق اللہ کو اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ آدمی ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرے۔ جب ایک قابل لحاظ گروہ اس قسم کی ایک زندگی اختیار کر لیتا ہے تو بطور انعام اس کو زمین کا اقتدار بھی دے دیا جاتا ہے (نور ۵۵) مگر یہ نظریہ اپنے حصہ کا کام چھوڑ کر خدا کے حصہ کا کام انجام دینا چاہتا ہے۔ یہ نظریہ اسلام کے پورے معاملے کو الٹ دیتا ہے ۔ وہ اسلام کو عملاً ایک قسم کے سیاسی عمل کا عنوان بنا دیتا ہے جس طرح، مثال کے طور پر، میکنونزم بنا ہوا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان کی تمام سرگرمیوں کا رخ آخرت کی طرف ہو۔ وہ ہمہ تن اگلی دنیا کی طرف متوجہ ہوجائے۔ مگر یہ نظریہ انسانی سرگرمیوں کو موجودہ دنیا کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں آخرت رخی زندگی کے بجائے دنیا رخی یا سیاست رخی زندگی وجود میں آتی ہے ۔ آدمی آخرت کے عذاب سے نجات پانے کے لئے فکر مند ہونے کے بجائے دنیا میں سیاسی انقلاب برپا کرنے کو اپنی توجہات کا مرکز بنا لیتا ہے۔ اسی طرح اس نظریہ کے نتیجہ میں ایسا ہوتا ہے کہ احتساب خویش کے بجائے " احتساب کائنات " آدمی کا نصب العین بن جاتا ہے۔ آدمی کی کوششوں کا نشانہ اس کی اپنی ذات کے بجائے خارجی دنیا ہو جاتی ہے ۔ وہ اپنی اصلاح کے لئے بے تاب ہونے کے بجائے وقت کے حکمرانوں سے لڑنے کو سب سے بڑا کام سمجھ لیتا ہے تاکہ ان سے اقتدار کی کنجیاں “ چھین لے اور اسلام کو تمام شعبہ ہائے زندگی میں نافذ کر دے۔

یہ ” مکمل اسلام “ اس قدر ناقص اسلام ہے کہ اسلام کا کوئی ایک جز بھی اس کے اندر صحیح طور پر اپنی جگہ نہیں پاتا۔ افراد کے اندر سیاسی مزاج پیدا کر کے وہ آدمی کو اس کی سب سے بڑی نعمت (اللہ کی قربت) سے محروم کر دیتا ہے۔ ایسے آدمی کا ذہن بے معنی سیاسی بحثوں میں مشغول ہوتا ہے نہ کہ یا دالہی میں۔ ایسے لوگوں کا نشانہ عین اپنے مزاج کے تحت حکومت بن جاتی ہے۔ موقع پاتے ہی وہ حکمران گروہ کے مقابلہ میں حزب مخالف کا کردار ادا کرنے کو کھڑے ہو جاتے ہیں اور ملت کو دو متحارب گروہوں میں بانٹ کر پورے ملک کو قتل اور فساد سے بھر دیتے ہیں۔ سب سے زیادہ برا پھل جو اس نام نہاد مکمل اسلام سے نکلتا ہے وہ دین حق کی الٹی شہادت ہے۔ اللہ کا دین اللہ کے بندوں کے لئے رحمت ہے۔ وہ اس لئے آیا ہے کہ آدمی کو جنت کی فضاؤں کا تعارف کرائے ۔ مگر اس نظریہ کے نتیجہ میں دین کی جو تصویر بنتی ہے وہ یہ کہ دین نام ہے آپس کی لڑائی کا، دین کے نام پر دنیوی ہنگامے کرنے کا ۔ کوڑمار سیاست اور گولی مار حکومت کا ۔ یہ تصویر اتنی قبیح ہوتی ہے کہ لوگ پکار اٹھتے ہیں —— ” اگر اسی کا نام اسلام ہے تو غیر اسلام ہمارے لئے زیادہ اچھا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues

Printed page