Al-Risala · July 1979 · page 29

اسلام فوجداری قانون کا نام نہیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۲۹

”غریبی ہٹاؤ" کے نعرہ پر ایک تحریک اٹھتی ہے۔ مگر اس تحریک کے لوگ جس نے گرد جمع ہوتے ہیں وہ کوئی غریب نہیں ہوتا بلکہ ایک امیر لیڈر ہوتا ہے۔ کچھ لوگ مزدور کے نام پر اٹھتے ہیں۔ مگر وہ اپنی اجتماعیت کے لئے جس مرکزی ہستی کو پاتے ہیں وہ ایک ایسا لیڈر ہوتا ہے جو خود بہت بڑا لینڈ لارڈ ہے۔ ان واقعات کی وجہ یہ ہے کہ "غریب" کا وجود لوگوں کی نظر میں اتنا حقیر ہے کہ وہ انہیں دکھائی نہیں دیتا۔ وہ لوگوں کے لئے مرکز توجہ نہیں بنتا۔ لوگ کسی بڑی شخصیت ہی کے گرد جمع ہو سکتے ہیں جو ان کو قد آور دکھائی دیتی ہو اور یہ ان کو لیڈر" ہی کی صورت میں ملتا ہے خواہ اس کا غریبی اور مزدوری سے کوئی تعلق نہ ہو۔

یہی صورت حال مذہب میں بھی پیش آتی ہے۔ مذہب کیا ہے، اپنے لئے ایک ملجا اور مرجع کو پالینا۔ جب مذہب کے نام پر وہ لوگ جمع ہوں جو مومنین بالغیب ہوں، وہ خدا کو نہ دیکھتے ہوئے بھی اس کو دیکھنے لگے ہوں ۔ جو دنیا میں رہتے ہوئے بھی آخرت میں جینے لگے ہوں تو ایسے لوگوں کا ملجا اور مرجع خدا کی ذات بن جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے سب سے بڑی حقیقت خدا ہوتی ہے، ان کے لئے یہ بات خارج از بحث ہوتی ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی اور کے گرد جمع ہوں، وہ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا مرکز و مرجع بنائیں ۔

مگر جب مذہب کے گرد ایسے لوگ جمع ہو جائیں جو ایمان بالغیب کے مقام پر نہ ہوں۔ جن کو خدا سے زیادہ دوسری چیزیں نظر آتی ہوں، جو چھپی ہوئی دنیا سے زیادہ اس دنیا کو دیکھتے ہوں جو ان کے سامنے پھیلی ہوئی ہو، تو ان کا حال بھی ہوتا ہے جو غریبوں اور مزدوروں کے نام پر اٹھنے والے لوگوں کا ہوتا ہے۔ وہ خدا کے نام پر اٹھتے ہیں مگر اپنی ظاہر پرستی کی وجہ سے کسی غیر خدا پر اٹک کر رہ جاتے ہیں۔ وہ اخروی نظام کا لفظ بولتے ہیں مگر عملاً وہ ایک دنیوی نظام پر ایمان لائے ہوتے ہیں۔ ان کا اسلام موت سے پہلے کی دنیا میں عزت حاصل کرنے کا ایک عنوان ہوتا ہے نہ کہ موت کے بعد کی دنیا میں عزت و کامیابی حاصل کرنے کا۔

اسلام فوجداری قانون کا نام نہیں

موجودہ زمانہ میں کچھ تحریکیں ابھری ہیں جو اسلام کے حدود و تعزیرات (سزاؤں) کے اجراء کو اسلامی نظام کے نفاذ کا نام دیتی ہیں، یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ اسلام کے اس "فوجداری" تصور نے اسلام کے اصل مدعا کو ختم کر دیا ہے۔ کسی تعلیم گاہ میں بید کی سزاؤں کا اجراء تعلیم گاہ کے اندر ڈسپلن قائم کرنے سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ اصل تعلیمی مقصد سے۔ اسی طرح اسلام میں جو سزائیں مقرر کی گئی ہیں، وہ مسلم معاشرہ کی تنظیم کے لئے ہیں۔ یہی اسلام کا اصل مقصد نہیں ہے۔ دور اول میں جب مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی تو، مذکورہ معنوں میں، وہاں اسلامی نظام قائم ہو گیا۔ مگر اسی معاشرہ میں وہ مسلمان بھی تھے جن کے بارہ میں قرآن میں اعلان کیا گیا کہ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (منافقین جہنم کے سب سے نچلے درجہ میں ہوں گے حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا اصل مقصد افراد کا تزکیہ ہے جو ان کے اندر وہ باطنی اوصاف پیدا کرے جو جنت کا مستحق بنانے والے ہوں۔ اسلام کی کوششوں کا نشانہ لوگوں کو جنتی انسان بنانا ہے، نہ کہ ان کو کوڑے مارنا اور پھانسی دینا۔ ایک شخص جرم کرتا ہے۔ نظام اسلامی کے علم بردار اس کے لئے دعائیں نہیں کرتے،

‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues

Printed page