قوانین کا مقصد معاشرہ کی تنظیم
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۳۰
تنہائیوں میں اس سے مل کر اس کو درد مندانہ نصیحت کرتے، اس کی اصلاح کے لئے وہ خیر خواہانہ کوشش نہیں کرتے جو ایک باپ اپنے بیٹے کے لئے کرتا ہے۔ وہ صرف یہ کرتے ہیں کہ اس کو کوڑا مارنے اور پھانسی دینے کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ نظام اسلامی کے نام پر نظامِ فوجداری قائم کرنے کے علم بردار ہیں۔ نظام اسلامی قائم کرنے والے وہ ہیں جو اللہ کے بندوں کو اللہ کی جنت میں پہنچانے کی کوشش کر رہے ہوں۔ وہ حکمت اور خیر خواہی کے تمام تقاضوں کے تحت لوگوں کی اصلاح میں سرگرم ہوں ۔ انتقامی جذبہ سے نہیں بلکہ اصلاح کے جذبہ سے ان کے اوپر حکم الہیٰ کی تعمیل کریں خواہ وہ شخص کوئی غیر ہو یا خود اپنا بیٹا ہو۔
قوانین کا مقصد معاشرہ کی تنظیم
موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر اٹھنے والی تحریکیں اکثر رد عمل کی تحریکیں تھیں نہ کہ حقیقتاً ایجابی اسلامی تحریکیں ۔ پچھلی صدیوں میں مغربی قومیں نئی طاقتوں سے مسلح ہو کر اٹھیں اور انھوں نے پوری مسلم دنیا کو مغلوب کر لیا۔ وہ نہ صرف ان کی سیاست پر چھا گئیں بلکہ فکری اور ذہنی شعبوں پر بھی انھوں نے قبضہ کر لیا۔ مسلمانوں میں اس کا رد عمل ہونا فطری تھا۔ بہت سے لوگ اپنے ان نئے دشمنوں سے مقابلہ کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ ایک دفاع کا کام تھا اور اگر دفاع کے عنوان کے تحت اس کو کیا جاتا تو اس میں کوئی حرج نہ تھا۔ مگر جوشِ مقابلہ میں اسی کو دین کا اصل مدعا کہا جانے لگا۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے اسی کی بنیاد پر پورے دین کی تعبیر کر ڈالی۔ انھوں نے قرآن وحدیث کی تشریح اس انداز میں کی گویا قوموں سے لڑنا اور ان کے اوپر اپنی سیاست قائم کرنا ہی امت مسلمہ کا اصل مشن ہے۔ اس حکمراں کا نشانہ ابتدا ء غیر مسلم قومیں تھیں۔ مگر دوسری جنگ عظیم کے بعد جب مسلم ملکوں کو غیر مسلم قوموں کے سیاسی تسلط سے آزادی مل گئی تو ان کے حربی مشن کا نشانہ خود مسلم حکمران قرار پائے۔ کیوں کہ وہ امت مسلمہ کے اصلی نصب العين (اسلامی قانون کا نفاذ کو عمل میں نہیں لا رہے تھے۔ اس لئے ضروری تھا کہ ان سے لڑا کر ان کو ہٹایا جائے اور حکومتی اقتدار پر قابض ہو کر اسلامی قانون کو نافذ کیا جائے۔
اس نظریہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیاست جو دین کا صرف ایک اضافی حصہ ہے، وہ دین کا اعتقادی حصہ بن گیا۔ اسلام کے اجتماعی قوانین حقیقتہ مسلم معاشرہ کی تنظیم کے لئے ہیں جو معاشرہ کی صلاحیت کے بقدر اس میں نافذ کئے جاتے ہیں۔ مگر اس تشریح دین نے اس کو جنت اور جہنم کا مسئلہ بنا دیا۔ اسلامی قانون کو نافذ کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگاؤ تو جنت میں جاؤ گے، ورنہ جہنم میں جلو گے۔ یہ وہی غلطی تھی جو پہلی صدی ہجری میں شیعہ حضرات نے کی ۔ وہ خلافت کے عہدہ پر بنی ہاشم کے کسی فرد کو دیکھنا چاہتے تھے۔ اپنی اس سیاسی خواہش کو دینی جواز عطا کرنے کے لئے انھوں نے خاندانی خلافت کا عقیدہ وضع کیا اور اس طرح ایک سیاسی مسئلہ کو اعتقادی مسئلہ بنا دیا۔ یہی غلطی دوسری بار موجودہ زمانہ کے مصلحین نے کی ہے۔ قانون اسلامی کا نفاذ کسی مسلم معاشرہ کی ایک تنظیمی ضرورت تھی، جس طرح مسجد نماز یوں کے کسی گروہ کی عمارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر اس کو انھوں نے مسلمانوں کی اعتقادی ضرورت بنا دیا۔ اس کے نتیجہ میں جدید اسلامی تاریخ کی سب سے بڑی برائی وجود میں آئی۔ ہر مسلم ملک میں مسلمان دو طبقوں میں بٹ گئے۔ ایک حکمراں اور ان کے حامیوں کا، دوسرا اسلامی سیاست کے
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues