قوانین کا مقصد معاشرہ کی تنظیم
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۳۱
علم بردار تھا۔ یہ دونوں ایک کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ میں مصروف ہیں اور مسلمان کا جان و مال جو دوسرے مسلمان کے لئے حرام تھا، ہر ایک نے اپنے لئے جائز کر لیا ہے۔ وہ جنگ جو اپنے نفس سے لڑنی تھی یا خدا کے منکرین سے، وہ آپس میں بہت بڑے پیمانہ پر جاری ہے۔ مزید لطف یہ ہے کہ اس غیر اسلامی جنگ کو ہر ایک نے اسلامی جہاد کا نام دے رکھا ہے۔ فتنہ کی واپسی اسلام کو سیاست بنانے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ وہ فتنہ (آزمائش) جس کو رسول اور اصحاب رسول نے بے پناہ قربانیوں کے بعد ختم کیا تھا، وہ اسلامی تاریخ میں دوبارہ لوٹ آیا۔ قدیم زمانہ میں سیاست اور شرک دونوں ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے۔ شاہی خاندان لوگوں میں یہ عقیدہ بٹھا کر حکومت کیا کرتا تھا کہ وہ دیوتا کی اولاد ہے۔ وہ خدا کی خدائی میں شریک ہے، وہ آسمانی دیوتاؤں کا دنیوی ظہور ہے۔ اسی بنا پر جب توحید خالص کی دعوت اٹھتی تو مشرکانہ عقائد کی بنیاد پر حکومت کرنے والے لوگ سمجھتے کہ یہ دعوت ان کے حق حکومت کو بے اعتبار بنا رہی ہے۔ وہ اس کو مٹانے کے لئے اپنی ساری طاقت اس کے خلاف لگا دیتے ۔ اس طرح توحید کی دعوت اپنے آغاز ہی میں حکمرانوں کی حریف بن کر سخت مشکلات کا شکار ہو جاتی ۔ چنانچہ قرآن میں حکم دیا گیا کہ وَقَاتِلُوْهُمْ حَتَّی لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلَّهِ (ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین صرف اللہ کے لئے ہو جائے) یعنی اہل شرک کی حیثیت ختم ہو جائے کہ وہ خدا کے بندوں کے لئے آزمائش بنے ہوئے ہیں اور ان کو دین کو توحید اختیار کرنے سے روکتے ہیں۔ خدا کے عقیدہ کو بند ربہ سیاسی ادارہ سے جدا کر دو تاکہ دین کا معاملہ تمام تر الہیاتی معاملہ بن جائے، وہ سیاسی معاملہ نہ رہے۔ اقتدار کے معاملہ سے اس کا اعتقادی تعلق ختم ہو جائے ، دین کا تمام تر اللہ کے لئے ہو جانا یہ ہے کہ فتنہ (آزمائش) کی حالت ختم ہو جائے ، دونوں کے درمیان کوئی اور چیز حائل نہ رہے۔
رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ جو تاریخ ساز انقلاب لایا گیا، اس نے شرک کو مقام اقتدار سے مٹا دیا، اس نے مذہبی عقیدہ اور سیاسی ادارہ کے درمیان تعلق کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار یہ امکان پیدا ہوا کہ سیاسی ادارہ سے ٹکراؤ کا خطرہ مول لئے بغیر دعوت توحید کا کام کیا جا سکے ۔ مگر مسلمانوں نے نئے عنوان سے دوبارہ وہی مشکلات دعوتی کام کی راہ میں پیدا کر دیں۔ پہلی صدی ہجری میں اہل بیت کی خلافت کو عقیدہ کا مسئلہ بنانا اس کی پہلی مثال تھی۔ اور موجودہ زمانہ میں ”مکمل قانون کے نفاذ، کو علی الاطلاق امت مسلمہ کا فریضہ بنانا اس کی دوسری مثال ہے ۔ اس تعبیر نے سیاسی جد و جہد کو عقیدہ کا مسئلہ بنا دیا۔ اب ہر ملک کے مسلمان ”مکمل اسلامی قانون کے نفاذ کے نام پر اپنے ملک کے حکمرانوں سے ٹکرا رہے ہیں اور سیاسی ادارہ دوبارہ نئے عنوان سے اسلام کا حریف بن گیا ہے جس طرح وہ ڈیڑھ ہزار سال پہلے اس کا حریف بنا ہوا تھا۔
احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد سب سے زیادہ جس چیز کا خطرہ محسوس کیا تھا وہ یہ کہ مسلمان آپس میں لڑیں گے۔ تاریخ سے اور موجودہ حالات سے اس کی پوری تصدیق ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمان آپس کی لڑائیوں میں جتنا زیادہ مشغول رہے ہیں اور مشغول ہیں اس کی مثال کسی بھی دوسری قوم میں نہیں ملتی۔ اغیار
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues