قوانین کا مقصد معاشرہ کی تنظیم
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۳۲
سے لڑنے میں دوسری قومیں ہم سے آگے نظر آئیں گی ۔ مگر خود اپنے ہم قوموں کے قتل و خون میں بہر حال مسلمان سب سے زیادہ آگے ہیں ۔ ان کی سب سے بڑی وجہ یہی سیاست کو عقیدہ بنانا ہے۔ قدیم زمانہ میں جو باہمی لڑائیاں جاری رہیں ، ان میں عام طور پر ان لوگوں کا ہاتھ کام کرتا ہوا نظر آتا ہے جنہوں نے یہ عقیدہ بنا لیا تھا کہ خلافت ایک مخصوص خاندان کا حق ہے۔ اس کے علاوہ شرعاً کسی کو مسلمانوں کے اوپر حکومت کرنا جائز نہیں۔ موجودہ زمانہ میں جمہوری اور سائنسی انقلاب ات نے اس ذہن کو فعال عقیدہ کی حیثیت سے ختم کر دیا تھا۔ مگر عین اس وقت قانون اسلامی کے نفاذ کو علی الاطلاق فرض بنانے والا نظریہ وجود میں آگیا اور اس نے اس باہمی لڑائی کو نئے عنوان سے مسلمانوں کے درمیان زندہ کر دیا۔ اسلامی نظام کیسے قائم ہوتا ہے " سیاسی اسلام" کے نظریہ کا مزید نقصان یہ ہے کہ وہ مطلوبہ اسلامی سیاست قائم کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ یہ نظریہ گویا گاڑی کو گھوڑے کے آگے باندھنا ہے ۔ درخت زرخیز زمین میں اگتا ہے نہ کہ پتھر کی چٹانوں پر۔ اسی طرح اسلامی نظام ہمیشہ حقیقی اسلامی معاشرہ میں قائم ہوتا ہے۔ جہاں اسلامی معاشرہ نہ پایا جائے، وہاں سیاسی تحریک چلا کر یا پھانسی اور گولی کی سزاؤں کے ذریعہ اسلام کا سیاسی درخت اگایا نہیں جا سکتا ۔ جو شخص کسی عہدہ کا امیدوار ہو، اسلام کے مطابق ، وہ اس عہدہ کے لئے سب سے زیادہ غیر موزوں شخص ہے۔ شریعت کی یہ تعلیم احادیث سے واضح طور پر ثابت ہے۔ یہاں چند روایتیں نقل کی جاتی ہیں :
ان اخونکم عند من طلبه (ابوداؤد) جو شخص نا اہل ہو، ہمارے نزدیک وہ سب سے زیادہ اسکا طالب ہے انا والله لا نولی علی هذا العمل احد اسأله خدا کی قسم حکومتی عہدہ پر ہم ایسے کسی شخص کا تقرر نہیں کرتے ولا احد احرص عليه (بخاری و مسلم) جو اس کو مانگے نہ ایسے کسی شخص کا جو اس کو چاہتا ہو۔ لا نستعمل على عملنا هذا من اراده (بخاری و مسلم) ہم اپنی حکومت کے کام پر ایسے شخص کو مقرر نہیں کرتے جو اس کی خواہش رکھتا ہو۔
تجدون خير الناس اشد هم كرا هية لهذا تم سب سے بہتر اس شخص کو پاؤ گے جو حکومتی منصب کو سب الامرحتي يقع فيه (بخاری و مسلم) سے زیادہ ناپسند کرتا ہو، یہاں تک کہ مجبوراً اس میں مبتلا ہو جائے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کون سا معاشرہ ہے جس کے اندر اسلامی نظام قائم ہوتا ہے ۔ یہ وہ معاشرہ ہے جس کے افراد میں اقتدار پسندی نہ پائی جاتی ہو۔ جس کے سربرآوردہ لوگ خود شعوری کے اس مقام پر ہوں کہ وہ دوسرے کے مقابلہ میں اپنی نا اہلی کو جانتے ہوں۔ جس کے افراد اتنے بلند نظر ہوں کہ عہدوں کے معاملہ میں اپنی ذات کی نفی کر کے سوچتے ہوں۔ ایسے لوگوں کے درمیان جب عہدیدار کے تقرر کا سوال آتا ہے تو سب میں جو موزوں ترین شخص ہوتا ہے وہ خود بخود ابھر کر سامنے آجاتا ہے ۔ اور جب اس کا تقرر ہو جاتا ہے تو سارے لوگ فوراً اس کے تقرر کو مان لیتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر معاشرہ کا یہ حال ہو کہ اس کے افراد اپنی اپنی اہلیتوں کو جاننے کے ماہر ہوں تو ایسے معاشرہ میں صرف باہمی لڑائیاں جنم لیتی ہیں ،
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues