غیر جذباتی فیصلہ کرنے کی صلاحیت
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۳۳
اس سے اسلامی نظام برآمد نہیں ہوتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کا جو گروہ جمع ہوا تھا، وہ وہی لوگ تھے جو اپنی نفی کر کے سوچتے تھے۔ چنانچہ آپ کے زمانہ میں کامیابی کے ساتھ نظام قائم ہوا اور چلتا رہا۔ خلیفہ اول اور خلیفہ دوم کے زمانہ میں اسی قسم کے لوگ معاشرہ پر چھائے ہوئے تھے۔ اس لئے ان کے زمانہ میں بھی اسلامی نظام کامیابی کے ساتھ قائم رہا، خلیفہ سوم اور چہارم کے زمانہ میں صورت حال بدل گئی۔ اب اسلامی معاشرہ میں ایسے لوگوں کی کثرت ہو گئی جو اپنی ذات کی نفی کرکے سوچنا نہیں جانتے تھے۔ چنانچہ عہدہ اور خلافت کے دعوے دار کھڑے ہونا شروع ہو گئے۔ اور باہمی لڑائیوں کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس میں حقیقی اسلامی نظام منتشر ہو کر رہ گیا۔
جس معاشرہ کے لوگ اپنی ذات کی نفی کر کے سوچنا نہ جانتے ہوں وہاں اسلامی تحریک کا کام یہ ہے کہ ایسے افراد وجود میں لانے کی کوشش کرے جو فرائض کے معاملہ میں اپنے کو شامل کر کے سوچنے والے ہوں اور عہدوں کے معاملہ میں اپنے کو الگ کر کے سوچیں ۔ اسلامی نظام قائم کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ اس کے برعکس مطالبہ اور ایجی ٹیشن کے ذریعہ اسلامی نظام نافذ کرنے کی کوشش ایک بے معنی کوشش ہے جو صرف ٹکراؤ کو جنم دیتی ہے، ایسے معاشرہ میں اس قسم کی تحریک عملاً مدعیان اقتدار کی تعداد میں اضافہ کے ہم معنی بن جاتی ہے۔ وہ فساد کو بڑھاتی ہے نہ کہ معاشرہ میں اصلاح پیدا کرے۔
اقتدار کی طلب انسان کی سب سے بڑی طلب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اقتدار کی جنگ جاری رہی ہے۔ سماج کے اندر ہمیشہ کثیر تعداد میں ایسے لوگ موجود رہتے ہیں جو کسی نہ کسی طرح اقتدار اور مرتبہ کے مقام پر پہنچنے کا خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ تاریخ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ انسانی معاشرہ ہمیشہ اقتدار اور بڑائی چاہنے والوں کا ڈنگ بنارہا ہے۔ ایسی حالت میں کسی اصلاحی تحریک کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ قلوب کی راہ سے لوگوں کے اندر داخل ہو کر ان کے جذبہ اقتدار پسندی کو کم کرے۔ اس ابتدائی اصلاحی کام کو قابل لحاظ حد تک کے بغیر جو لوگ "مطالبہ نظام اسلامی" کی مہم لے کر کود پڑیں وہ صرف فساد فی الارض میں اضافہ کریں گے۔ کیوں کہ اس قسم کی مطالباتی مہم طالبین اقتدار کی تعداد میں اضافہ کے ہم معنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اقتدار کی رسہ کشی جو پہلے صرف عام دنیا داروں کے درمیان جاری تھی، اس میں مذہبی لوگوں کی بھیڑ کا بھی اضافہ ہوجائے۔ مزید اس شناعت کے ساتھ کہ اقتدار کی جو جنگ پہلے سیاست کے نام پر ہو رہی تھی وہ مذہب کے نام پر ہونے لگے۔ خدا کا دین جاہ طلبی کے بازار میں ایک سیاسی سودا بن کر رہ جائے۔
غیر جذباتی فیصلہ کرنے کی صلاحیت
اسلامی تحریک کو سیاسی تحریک بنانا پوری قوم کو جذباتی بنا کر رکھ دیتا ہے۔ جب کہ اسلام کو قائم کرنے کے لیے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایسے انسانوں کی ایک جماعت ہے جو غیر جذباتی فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، اس قسم کی تحریک، بالفرض ایک حکومت کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائے تب بھی وہ نئی صالح حکومت بنانے میں کامیاب نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues