غیر جذباتی فیصلہ کرنے کی صلاحیت
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۴۴
ہوسکتی۔ کیوں کہ عین اپنی فطرت کے نتیجہ میں، وہ ان افراد سے محروم ہوگی جو کسی نظام کو اسلامی طریق پر چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایک بار مجھے ایک کارخانہ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ مجھے ایک مشین دکھائی گئی۔ کارخانہ کے مالک نے ایک بٹن دبایا۔ فوراً مشین کا بڑا پہیہ (Fly wheel) تیزی سے گھومنے لگا۔ پہیہ اپنی پوری رفتار سے ایک رخ پر گھوم رہا تھا کہ مالک نے دوسرا بٹن دبایا۔ اس کے بعد اچانک پہیہ نے رفتار بدلی اور تقریر بار کے بغیر دوسرے رخ پر اسی تیزی سے گھومنے لگا۔ یہ صلاحیت جو ایک مشین کو کامیاب بناتی ہے وہی اسلامی سیاست کی کامیابی کے لئے درکار ہے۔ اسلامی سیاست کو وہی لوگ کامیابی کے ساتھ چلا سکتے ہیں جو اپنے آپ پر اتنا زیادہ قابو رکھنے والے ہوں کہ نئی صورت حال پیش آنے کے بعد اچانک وہ اپنے رخ کو تبدیل کر سکیں۔
اسلامی نظام قائم کرنے کے لئے ایسے افراد درکار ہیں جو مذکورہ پہیہ کی طرح بیک وقت اپنا رخ تبدیل کر سکتے ہوں۔ جو جنگی جنون کی عین انتہا پر پہنچ کر صلح کا فیصلہ کر سکیں۔ جو غصہ اور انتقام کی بھڑکتی ہوئی آگ کے کے درمیان معاف کر دینے اور بھول جانے کا اعلان کر سکیں۔ جو لیڈری کے عالی شان مواقع کے ہوتے ہوئے اپنے آپ کو گم نامی کے گوشہ میں لے جانے پر راضی ہو جائیں۔ جو انتہائی اشتعال انگیز واقعات کے درمیان کھڑے ہو کر ایک انتہائی ٹھنڈا فیصلہ کر سکیں۔ جو فتح کے جلو میں ہوتے ہوئے غیر فاتحانہ رویہ کا مظاہرہ کر سکیں۔ یہ متضاد خصوصیات صرف انھیں لوگوں میں پیدا ہو سکتی ہیں جن کے خوف خدا نے ان کے "انا" کے خول کو چکنا چور کر دیا ہو۔ جن کے محاسبہ نفس نے ان کا یہ حال کر دیا ہو کہ وہ اپنے آپ کو اسی بے آمیز نظر سے دیکھنے لگیں جس نظر سے خدا انھیں دیکھ رہا ہے۔ جن کے ایمان نے ان کو اتنا با شعور بنا دیا ہو کہ ان کا شعور ان کے نفس کو کنٹرول کرنے لگے نہ کہ نفس ان کے شعور کا۔ انھیں اوصاف کے حاملین اسلامی نظام قائم کرتے ہیں۔ مگر اسلام کو سیاسی تحریک بنانے کے بعد جو سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے وہ یہ کہ اس قسم کے افراد کی پیدائش کا امکان مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ اسلام کے نام پر سیاسی تحریک چلانا گویا ”آشیانہ“ کے نام پر اس شاخ کو کاٹنا ہے جس پر بالاخر آشیانہ قائم ہونے والا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues