دعوتی کام کی ہمہ گیری
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۳۵
دعوتی کام کی ہمہ گیری
مسلمان کا مشن دعوت الی اللہ ہے۔ یہی عمل اس کی دنیا و آخرت کی فلاح کا ضامن ہے۔ اسی عمل کو انجام دینے سے وہ اس کا مستحق قرار پاتا ہے کہ خدا کے یہاں امت محمدی کی حیثیت سے اٹھایا جائے، اور یہی وہ عمل ہے جو دنیا میں اس کی حفاظت و کامیابی کو یقینی بناتا ہے۔ اس کام کو چھوڑنے کے بعد مسلمان اللہ کی نظر میں اس طرح بے حقیقت ہو جائیں گے جس طرح یہود اپنی داعیانہ حیثیت کو چھوڑنے کے بعد اللہ کی نظر میں بے حقیقت ہو گئے ۔ اس سلسلے میں قرآن کی حسب ذیل آیت کا مطالعہ کیجیے :
یٰۤاَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ اے پیغمبر ! تمہارے رب کی طرف سے جو کچھ تمہارے اوپر تفعل فما بلغت رسالته ۚ والله يعصمك من الناس اتارا گیا ہے اس کو لوگوں تک پہنچا دو ۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا ان الله لا يهدي القوم الكفرين تو تم نے پیغمبری کا حق ادا نہ کیا۔ اور اللہ تم کو لوگوں کے شر (مائده ۶۷) سے بچائے گا۔ اللہ کبھی راہ نہیں دیتا منکر قوم کو۔
آیت کا خطاب اگر چہ بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے ۔ مگر آپ کی تبعیت میں آپ کی امت بھی اس میں شامل ہے۔ اس آیت سے پہلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ تبلیغ ما انزل اللہ (اللہ کے اتارے ہوئے علم کو لوگوں تک پہنچانا) وہ اصل کام ہے جو اللہ کو مسلمانوں سے مطلوب ہے ۔ " اور اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تا کہ تم لوگوں پر بتانے والے (گواہ) بنو اور رسول تم پر بتانے والا (بقرہ ۱۴۳) مسلمان کی اس حیثیت کو حدیث میں انتم شہداء الله فی الارض تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو) کے الفاظ میں واضح کیا گیا ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ کوئی شخص یا گروہ جس منصب پر متعین کیا جائے ، اسی خاص منصب کی ادائیگی یا عدم ادائیگی پر اس کے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے۔ اگر وہ اس متعین فریضہ کو ادا کرے تو اس کے لئے ہر قسم کے انعامات ہیں۔ اور اگر وہ اس فریضہ کو چھوڑ دے تو دوسرا کوئی کام ، خواہ وہ کتنے ہی بڑے پیمانہ پر کیا جائے ، اس کو اپنے آقا کی نظر میں کسی رتبہ کا مستحق نہیں بناتا۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کو اس تنبیہ سے ڈرنا چاہئے جو ان کے پیشرو حاملین کتاب (یہود) کو اس وقت دی گئی جب کہ وہ " اللہ کی طرف سے بتانے ، کا کام چھوڑ بیٹھے اور اللہ کی طرف منسوب کر کے (اعراف ۳۸) دوسرے دوسرے کام کرنے لگے :
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْکِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهُ اور جب اللہ نے اقرار لیا اہل کتاب سے کہ تم اس لوگوں کے لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا سامنے بیان کرو گے اور اس کو نہیں چھپاؤ گے ، پھر انہوں نے بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۚ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ ٥ لا تحسبن الذين اس اقرار کو مٹھی کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے میں يفرحون بما أتوا ويحبون ان يحمدوا بما لم يفعلوا مول لے لیا تھوڑا ۔ پس کیسی بری چیز ہے جس کو وہ لے رہے ہیں۔ فلا تحسبنهم بمفازة من العذاب ولهم عذاب جو لوگ اپنے اس کردار پر خوش ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام نہیں کیا اس پر ان کی تعریف ہو، ایسے لوگوں کو عذاب
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues