Al-Risala · July 1979 · page 36

مسائل کا حل دعوت الی اللہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۳۶

نے بچاؤ میں سمجھو اور ان کو درد ناک عذاب ہوگا ۔

کوئی گروہ جو آسمانی کتاب کا حامل ہو، وہ اللہ کی نظر میں اس وقت بے حقیقت ہوتا ہے جب کہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق اللہ کی اتاری ہوئی ہدایت کو اللہ کے بندوں تک نہ پہنچا رہا ہو۔ ۔ دعوت الی اللہ کے کام کو چھوڑ کر دوسرے کام کرنا اور اس کو مطلوب دینی کام کا عنوان دینا صرف آدمی کے جرم میں اضافہ کرتا ہے ۔ وہ اس کو دینی کریڈٹ کا مستحق نہیں بناتا ۔

مسائل کا حل دعوت الی اللہ

دعوت کا حکم دیتے ہوئے پیسہ کہناکہ " اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا " واضح کرتا ہے کہ دعوتی عمل ہی میں مسلمانوں کے تمام مسائل کے حل کا راز بھی چھپا ہوا ہے ۔ دنیا میں مسلمان جن لوگوں کے درمیان ہیں ، ان کی طرف سے بے شمار متوقع اور غیر متوقع مشکلیں پیش آتی ہیں ۔ مگر مسلمانوں کو ان سب پر الگ الگ طاقت خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ان کے لئے ان کے رب نے ایک ایسا سرادے دیا ہے جو تمام چیزوں کا جامع ہے ۔ اور وہ مراد دعوت الی اللہ ہے۔ ایک شخص اپنی زندگی میں بے شمار ضرورتوں کا محتاج ہوتا ہے ۔ مگر وہ ہر ضرورت پر الگ الگ دھیان نہیں دیتا بلکہ اپنی ساری طاقت اس چیز کو حاحل کرنے میں لگا دیتا ہے جس کو " پیسہ " کہتے ہیں ۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ یہ قاضی الحاجات اور حل المشکلات ہے۔ جب اتنا ہر ایک چیز ہے مگر وہ ہاتھ آجائے تو بقیہ ضرورتیں خود بخود پوری ہوتی چلی جاتی ہیں ۔ ایسا ہی کچھ معاملہ دعوت الی اللہ کے کام کا ہے ۔ وہ تمام مسائل جو دنیا کی زندگی میں مسلمانوں کو پیش آئیں ، ان سب کا مشترک حل دعوت ہے ۔ دعوت الی اللہ میں عصمت من الناس کا راز چھپا ہوا ہے ۔ " اللہ مکروں کو راہ نہیں دیتا " کا مطلب یہ ہے کہ دعوتی کام کے بعد یہ نہ ہوگا کہ تمھارے معاونین تمھارے خلاف اپنے عزائم کی تعمیل کے موافق نہ پاسکیں گے ، تمھارے دعوتی عمل کے نتیجہ میں ان کی راہیں مسدود ہوتی چلی جائیں گی ۔ دعوت الی اللہ کا یہی تسخیری پہلو ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں ملتا ہے جو آپ نے مکہ کے منکرین کے سامنے پیش کیا تھا :

کلمة واحدة تعطونها تملكون بها العرب و تدین تم مجھے ایک کلمہ دے دو، اس سے تم تمام عرب کے مالک - لكم بها العجم (البدايه والنهايه جلد ۲ صفحہ ۱۲۳) ہو جاؤ گے اور تمھارا مطیع فرمان ہوگا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اس قرآنی تعلیم کا مکمل نمونہ ہے۔ آپ نے مختلف پیش آمدہ مسائل کو براہ راست نشانہ بنانے کے بجائے اپنی ساری توجہ دعوت کے کام پر لگا دی۔ اسی سے اللہ نے دوسرے تمام مسائل کے حل کی راہیں نکال دیں ، مثال کے طور پر معاہدہ حدیبیہ (۶ ھ) کے وقت منکرین نے آپ کو مسائل و مشکلات کے جنگل میں گھیر لیا تھا۔ حتی کہ بیت اللہ الحرام کی زیارت کا حق دینے پر بھی وہ راضی نہ تھے۔ اس وقت آپ نے کیا کہ منکرین کی خود اپنی شرائط کو مانے ہوئے ان سے دس سال کا خام جنگ معاہدہ کر لیا ۔ یہ منکروں کو ان کی منہ مانگی قیمت دے کر اپنے لئے دعوتی کام کی راہ کھولنا تھا۔ مسئلہ جنگ کی سطح پر تھا مگر آپ نے اس کا صل دعوت کی سطح پر تلاش کیا۔ چنانچہ اس معاہدہ کے بعد جیسے ہی امن ہوا، آپ نے ایک طرف رؤساء ملوک کو دعوتی وفود بھیجنے شروع کئے اور دوسری طرف عرب کے قبائل

‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues

Printed page