مسائل کا حل دعوت الی اللہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۳۷
میں دعوت کا کام پوری طاقت کے ساتھ جاری کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کی تعداد بہت تیزی سے بڑھنے لگی۔ حدیبیہ کے میدان سے آپ تقریباً ڈیڑھ ہزار مسلمانوں کے ساتھ واپس ہوئے تھے۔ دو سال بعد (۸ھ) آپ نے دس ہزار مسلمانوں کے ساتھ مکہ کو خون بہائے بغیر فتح کر لیا۔ یہی طریق کار تھا جس نے ساتویں صدی ہجری میں تاتاریوں کے خلاف مسلمانوں کی مدد کی۔ تاتاری فوجوں کی یلغار اتنی زبردست تھی کہ اس زمانہ میں کہا جانے لگا تھا کہ اذا قیل لك ان النتر انهز موافلا تصدق را گر تم سے کہا جائے کہ تاتاری ہار گئے تو اس کو مت ماننا) مگر وہ فتنہ جس کے حل سے مسلمانوں کی تلوار عاجز ہورہی تھی۔ اس کو دعوت نے حل کر دیا۔ مسلمانوں کی دعوتی جد و جہد سے تاتاری بڑی تعداد میں مسلمان ہو گئے۔ وہ لوگ جو مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لئے نکلے تھے وہ خود مسلمانوں میں شامل ہو کر ملت اسلامی کا جزء بن گئے۔
بعد کے دور میں مسلمانوں کو جو مسائل پیش آئے، اس کی واحد سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کے اندر دعوتی ذہن ختم ہو گیا ۔ وہ ”دینی جد و جہد" کے نام پر دوسرے دوسرے کام کرنے لگے۔ ظاہر ہے کہ خدا کی اس دنیا میں اس قسم کے خود ساختہ طریقوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ آپ اگر گیہوں کے دانے کے شکل کے پتھر تراشیں اور ان کو زمین میں بوئیں تو ان پتھروں کے ٹکڑوں سے گیہوں کا پودا نہیں اگ سکتا، خواہ آپ نے اس کی تراش میں کتنی ہی کاریگری دکھائی ہو۔ گیہوں کی فصل گیہوں کے دانوں سے اگتی ہے نہ کہ پتھر کے ہم شکل ٹکڑوں سے۔ اس بات کو یہاں ہم چند مثالوں سے واضح کریں گے۔ دعوتی غفلت کے نتائج ۱۔ موجودہ زمانہ میں مسلم قوموں کے لئے جو مسائل پیدا ہوئے ان میں سب سے بڑا مسئلہ "استعمار" کا سمجھا جاتا ہے۔ اس نے نہ صرف مسلم قوموں کو سیاسی طور مغلوب کیا بلکہ بے شمار دوسرے مصائب میں مبتلا کر دیا۔ انگریزوں کے درمیان اگر تبلیغی کام کیا جاتا تو عین ممکن تھا کہ انگلستان زیادہ بہتر طور پر دوسرا ترک ثابت ہوتا۔ انگریزوں کے اندر قبولیت اسلام کا مادہ ہونے کا ثبوت کافی ہے کہ عین اقتدار کے زمانہ میں ان کے افراد مسلمان ہوتے رہے۔ مگر پچھلے کئی سو برس کے اندر کبھی مسلمانوں میں یہ ذہن پیدا نہیں ہوا کہ وہ انگریزوں کے اوپر خدا کے دین کی تبلیغ کریں۔ حتیٰ کہ اگر کسی نے اس قسم کی تجویز پیش کی تو کہا گیا کہ یہ انگریزوں کا ایجنٹ ہے اور چاہتا ہے کہ مسلمانوں کو جہاد آزادی کے محاذ سے ہٹا دے۔ تاہم موجودہ زمانہ میں اس سلسلے میں جو غفلتیں کی گئی ہیں، ان کا میں یہاں ذکر نہیں کروں گا۔ میں انگلستان کی ایک تازہ مطبوعہ کتاب " تاتار خاں کا انگریز" نامی کتاب کے مصنف گیبر یل رونے کے ایک مضمون کا حوالہ دوں گا۔ یہ مضمون لندن کے اخبار سنڈے ٹائمز (۲۲ اکتوبر ۷ ۱۹ء) میں شائع ہوا ہے۔ انگریز مصنف نے بعض تاریخی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے: "For a crucial moment in the thirteenth century England faced the prospect of being totally converted-lock, stock and barrel-into a Muslim country."
تیرھویں صدی عیسوی میں ایک نازک لمحہ میں انگلستان کے لئے یہ امکان پیدا ہو گیا تھا کہ وہ مکمل طور پر ایک مسلم ملک میں میں تبدیل ہو جائے ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انگلستان کا بادشاہ جان لاک لینڈ (۱۲۱۶-۱۱۹۷ء) کلیسا کے رویہ کی وجہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues