Al-Risala · July 1979 · page 38

مسائل کا حل دعوت الی اللہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۳۸

سے عیسائیت سے بیزار ہو گیا۔ اس نے طے کر لیا کہ وہ اپنی رعایا سمیت مسلمان ہو جائے اور مسلم خلیفہ کی اطاعت قبول کرے۔ اس نے ۱۲۱۳ء میں سلطنت موحدین کے امیر ناصر لدین اللہ کے پاس ایک خفیہ وفد بھیجا جو تین افراد پر مشتمل تھا۔ یہ لوگ سفر کرکے مراکش پہنچے اور امیر ناصر لدین اللہ سے ملے۔ انھوں نے امیر کو شاہ جان کا خط پیش کیا اور ترجمان کے ذریعہ اپنے بادشاہ کی خواہش سے اس کو آگاہ کیا کہ وہ امیر کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنا چاہتا ہے۔ مگر ناصر لدین اللہ دعوت و تبلیغ کا مزاج نہ رکھتا تھا۔ وہ اس پیش کش میں دل چسپی نہ لے سکا اور وفد ناکام اپنے وطن واپس لوٹ گیا۔ شاہ انگلستان کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ سخت غمگین ہوا اور بہت رویا۔ شاہ انگلستان کو اس وقت اگر اسلام میں داخل کر لیا جاتا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پورا انگلستان مسلمان ہو جاتا اور اس کے بعد استعمار کی تاریخ اور یورپ کی نشاة ثانیہ کی تاریخ بالکل دوسرےی ہوتی۔ وہ لوگ جو حالیہ صدیوں میں اسلام کا جھنڈا گرانے کے درپے ہوئے ، وہ اسلام کا جھنڈا بلند کرنے والے بن جاتے۔ حتی کہ اسرائیل کا مسئلہ سر سے وجود میں نہ آتا جس نے آج سارے عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

۲- اسرائیل کا اگر چہ انگریزوں نے پیدا کیا۔ مگر آج اس کا سب سے بڑا سہارا امریکہ ہے۔ اس مسئلے نے مسلم دنیا کو بہت بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے اور پوری مسلم دنیا اس کے خلاف متحد ہے۔ تاہم ۳۰ سال کی طویل جد و جہد کے باوجود ابھی تک مسلمانوں کو اس محاذ پر کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ جہاں تک یہودیوں کے قبول اسلام کا تعلق ہے ہمیں اس معاملہ میں کوئی خوش گمانی نہیں ۔ اگر چہ اتمام حجت کے لئے ، ہم کو یہود تک بھی اسلام کی دعوت پہنچانا چاہئے۔ مگر مخصوص وجوہ سے عملاً اس کی بہت کم امید کی جاسکتی ہے کہ یہود کی کوئی قابل لحاظ تعداد اسلام قبول کرلے۔ تاہم جہاں تک تبلیغی طرزِ کار کا تعلق ہے، یہاں بھی اس کی افادیت مسلم ہے۔ تبلیغی طریق کار کے براہِ راست طور پر یہود پر موثر ہونے کی اگر چہ زیادہ امید نہیں کی جاسکتی۔ تاہم بالواسطہ طور پر ان پر اثر انداز ہونے کے پورے امکانات تھے۔ مگر دعوتی ذوق نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان اس کو استعمال نہ کر سکے۔

بالواسطہ طریق کار سے مراد امریکہ پر تبلیغ ہے۔ یہ ایک معلوم بات ہے کہ اسرائیل کا اصل سرپرست امریکہ ہے۔ امریکہ ہی وہ طاقت ہے جو اسرائیل کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ ، سائنٹفک معاشرہ ہونے کے بنا پر، آج اسلام کی تبلیغ کا سب سے کامیاب میدان بن سکتا ہے۔ مگر مسلمانوں کا تبلیغی کام امریکہ میں صفر کے درجہ میں ہے۔ جب کہ ہند دازم اللہ بدھ ازم تک نے وہاں اپنے لئے کام کے نہایت قیمتی مواقع پائے ہیں۔ یہاں ہم یاد دلائیں گے کہ ۱۸۸۱ء میں جب کہ سید جمال الدین افغانی اور ان کے شاگرد مفتی محمد عبده پیرس میں تھے۔ سید جمال الدین افغانی نے اپنے شاگرد سے کہا: ان اهل اوربا مستعدون لقبول الاسلام اذا | یورپ کے لوگ اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اگر اس احسنت الدعوة اليه - فقد قارنوا بين الدين الاسلامی کی دعوت اچھی طرح ان کے سامنے پیش کی جائے، کیوں کہ و بين غيره فوجدوا البون شاسعا من حيث يسر العقائد انھوں نے اسلام اور دوسرے مذہبوں کا تقابلی مطالعہ کیا وقرب تناونها - واقرب من اهل ادب را با لقبول الاسلام تو انھوں نے پایا کہ عقیدہ کی سادگی اور عمل کی آسانی کے اهل امريكا لانه لا يوجد بينهم وبين الامم الاسلامية اعتبار سے دونوں میں بہت فرق ہے، اور مغربی اقوام میں

‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues

Printed page