مسائل کا حل دعوت الی اللہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۳۹
عادات موروثہ ولا افغان مدفونۂ ملما قبول اسلام کے اعتبار سے سب سے زیادہ قریب امریکہ کے لوگ ہیں۔ کیونکہ ان کے اور اسلامی قوموں کے درمیان اس طرح کی قدیم عداوتیں نہیں ہیں جو مسلمان اور یورپی قوموں میں ہیں۔
هو الحال بين المسلمين والا دور بين جمال الدین الافغانی، تالیف محمود البودیه، ۵۰ اپنے استاد کی زبان سے یہ بات سن کر مفتی محمد عبدہ نے ان سے کہا : پھر کیوں نہ ہم ایسا کریں کہ سیاسی مقابلہ آرائی کو چھوڑ کر امریکہ میں تبلیغ و دعوت کا کام کریں۔ جمال الدین افغانی کے سیاسی ذوق کو تبلیغی کام ایک ہلکا کام معلوم ہوا، انھوں نے کہا: انما انت مثبت (تم تو حوصلہ پست کرنے والی باتیں کرتے ہو)۔ سید جمال الدین افغانی انتہائی غیرمعمولی صلاحیت کے آدمی تھے۔ وہ اگر اپنی پوری طاقت تبلیغ و دعوت کے کام میں لگا دیتے تو وہ امریکہ میں زبردست دعوتی کام پھیلا سکتے تھے۔ اور اگر انھوں نے سو سال پہلے یہ کام شروع کر دیا ہوتا تو عجب نہیں کہ آج امریکہ ایک مسلم ملک بن چکا ہوتا۔ اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ امریکہ میں اسلام پھیل جانے کے بعد اسرائیل کی تاریخ اس سے بالکل مختلف ہوتی جو آج ہمیں نظر آتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، وہ تاریخ دوبارہ نئی صورت میں دہرائی جاتی جب کہ قبیلہ موازن (۶ ہزار) کے مسلمان ہو جانے کے بعد قبیلہ ثقیف (طائف) نے ہتھیار ڈال دئے تھے (ظہور اسلام، صفحه ۳۹)
۳- موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا ایک بہت بڑا مسئلہ ان کی سائنسی اور صنعتی پس ماندگی ہے۔ اسی پس ماندگی کا یہ نتیجہ ہے کہ بے پناہ قربانیوں کے باوجود انھوں نے مغربی استعمار سے جو سیاسی آزادی حاصل کی تھی وہ صنعتی محکومی کی صورت میں دوبارہ ان کی طرف لوٹ آئی۔ حتیٰ کہ تیل پیدا کرنے والے مسلم ممالک اپنے تیل سے جو دولت حاصل کرتے ہیں وہ دوبارہ مختلف بہانوں سے انھیں مغربی ملکوں میں واپس چلی جاتی ہے جو صنعت اور سائنس میں اپنی برتری کی وجہ سے مسلم ملکوں کی تمام سرگرمیوں پر اپنا سایہ ڈالے ہوئے ہیں۔
بظاہر اس مسئلہ کا تبلیغ و دعوت کے کام سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں میں نہایت گہرا تعلق ہے۔ صنعت اور سائنس کو وجود میں لانے والے بالآخر انسان ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اگر ہاتھ آجائیں تو صنعت اور سائنس خود بخود ہاتھ آ جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود لکھنا نہیں جانتے تھے (عنکبوت ۴۸) مگر آپ کی دعوت کے ذریعہ ایسے لوگ اسلام میں داخل ہوئے جو لکھنا جانتے تھے۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے آپ کی وحی کو کتابی صورت میں لکھا۔ موجودہ زمانہ میں اس سلسلے میں جاپان کی مثال دی جا سکتی ہے۔ جاپان صنعت اور سائنس کے اعتبار سے آج صفِ اول کی قوموں میں شمار ہوتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ انیسویں صدی کے آخر میں جاپان میں اسلام کی اشاعت کے غیر معمولی امکانات پیدا ہو گئے تھے۔ جاپان کا بادشاہ میجی (۱۹۱۲-۱۸۶۸) جاپان میں مسیحیت کے داخلہ سے سخت متوحش تھا۔ کیوں کہ اس کے نزدیک مسیحیت، مذہبی لباس میں، مغرب کی استعماری طاقتوں کا ہر اول دستہ تھا۔ اس نے مسیحیت کو روکنے کے لئے یہ تدبیر سوچی کہ جاپان میں اسلام کو پھیلا یا جائے۔ وہ اسلام کو ایک بے ضر ر چیز سمجھتا تھا۔ جب کہ مسیحیت کے داخلہ کا مطلب اس کے نزدیک استعمار کا دروازہ کھولنے کے ہم معنی تھا۔ شاہ میجی نے ۱۸۹۱ میں ترکی کے سلطان عبدالحمید ثانی
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues