مسائل کا حل دعوت الی اللہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۴۰
(۱۹۱۷ - ۱۹۱۴) کے پاس ایک سرکاری وفد بھیجا۔ اس وفد کے پاس شاہ جاپان کا ایک خط تھا جس میں درخواست کی گئی تھی کہ سلطان اپنے مبلغین کو جاپان بھیجے جو جاپانیوں کو مذہب اسلام کی تعلیمات سے واقف کرائیں اور اس طرح جاپان اور عالم اسلام کے درمیان معنوی رشتہ قائم ہو، مگر نہ سلطان میں دعوت وتبلیغ کا جذبہ تھا اور نہ ان علماء میں جو اس کے گردوپیش جمع تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ پیش کش شکریہ کے ساتھ واپس کردی گئی اور اس سمت میں کوئی کام شروع نہ ہوسکا۔ اگر موقع سے فائدہ اٹھایا جاتا اور ۱۸۹۱ء سے جاپان میں تبلیغ اسلام کا کام شروع ہو جاتا تو پورے اعتماد کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ آج جاپان ایک مسلم ملک ہوتا اور اس کا مسلم ملک ہونا مسلمانوں کی سائنسی اور صنعتی پس ماندگی کی مکمل تلافی کردیتا۔ ۴۔ اب اس مسئلہ کو لیجئے جس کو ” ہندوستانی مسلمانوں کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ بھی تمام تر دعوت و تبلیغ کے کام سے غفلت کی پیداوار ہے۔ ہندوستان میں اسلام کی طویل تاریخ میں کبھی تبلیغ کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ یہاں جو لوگ اسلام کے حلقہ میں داخل ہوئے وہ زیادہ تر خود اپنے جذبہ سے داخل ہوئے نہ کہ حقیقۃً مسلمانوں کی کسی دعوتی کوشش سے۔ صوفیاء کے ہاتھ پر ماضی میں کثرت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ مگر یہ کہنا مشکل ہے کہ تبدیلی مذہب کے یہ واقعات ارادی طور پر کسی قابل ذکر تبلیغی کوشش کا نتیجہ تھے۔ یہ زیادہ تر قدیم حالات کی بنا پر تھا جب کہ مذہبی تعصب نہیں تھا اور لوگ معمولی اسباب سے اپنا مذہب بدلنے کے لئے تیار ہوجاتے تھے۔ جواہر لال نہرو نے لکھا ہے : ”اسلام کی آمد ہندوستان کی تاریخ میں کافی اہمیت رکھتی ہے۔ اس نے ان خرابیوں کو جو ہندو سماج میں پیدا ہوگئی تھیں، یعنی ذاتوں کی تفریق، چھوت چھات اور انتہا درجہ کی خلوت پسندی کو بالکل آشکارا کر دیا۔ اسلام کے اخوت کے نظریے اور مسلمانوں کی عملی مساوات نے ہندوؤں کے ذہن پر بہت گہرا اثر ڈالا۔ خصوصاً وہ لوگ جو ہندو سماج میں برابری کے حق سے محروم تھے، اس سے بہت متاثر ہوئے۔ اس نئے تاثر نے ملک میں بہت سی تحریکیں پیدا کیں چنانچہ بہت سے لوگ اپنا مذہب چھوڑ کر نئے مذہب میں شامل ہو گئے۔ ان شامل ہونے والوں میں اکثریت پنج ذات کی تھی۔ ان میں کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے سیاسی اور اقتصادی مصلحتوں کی بنا پر مذہب تبدیل کیا تھا۔ حکراں طاقت کا مذہب قبول کرنے میں جو فائدہ تھا وہ ظاہر ہے۔ یہاں ایک چیز خاص طور پر قابل لحاظ ہے ۔ عام طور پر پوری پوری جماعتیں ہندد سے مسلمان ہوجاتی تھیں۔ اس سے ہمیں اس اثر کا پتہ چلتا ہے جو ان دنوں جماعت کو حاصل تھا۔ اعلیٰ ذاتوں میں سے تو فردًا فردًا بھی لوگ تبدیل مذہب کرتے تھے۔ مگر نیچی ذاتوں میں ایک مقام کی کوئی پوری برادری یا سارے کا سارا گاؤں اسلام قبول کر لیتا تھا‘ جواہر لال نہرو مزید لکھتے ہیں ”اس زمانہ میں لوگوں نے خواہ انفرادی طور پر اسلام قبول کیا یا جماعتی طور پر، ہندو قوم نے اس کی مخالفت نہیں کی۔ انھیں اس کی پروا نہ تھی کہ ان کے کچھ لوگ کسی دوسرے مذہب کے پیرو بن جائیں۔ پرانے زمانہ میں تو یہ حال تھا۔ مگر آج کل معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اب اگر کوئی شخص اسلام یا مسیحیت قبول کرتا ہے تو ہر طرف غم وغصہ کے جذبات مشتعل ہوجاتے ہیں۔ آج کل کا یہ شور و غوغاسیاسی اسباب کے تحت ہے۔ کوئی دوسری جماعت کا مذہب اختیار کر لیتا ہے تو سمجھا جاتا ہے کہ اس سے اس جماعت کو تقویت پہنچی۔ سیاسی اختیارات میں اس کی نیابت کے حقوق بڑھے“ (ڈسکوری آف انڈیا، ۱۹۴۵ء، صفحات ۸۱- ۲۷۹)
ماضی کی تاریخ میں کثرت سے ایسے واقعات موجود ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس ملک میں اگر سنجیدگی کے ساتھ
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues