مسائل کا حل دعوت الی اللہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۴۱
اسیلام کی تبلیغ کی گئی ہوئی تو یہاں اس کی اشاعت کے غیر معمولی امکانات تھے۔ مثلاً ۱۸۵۷ء کے نام نہاد جہادِ آزادی کے بعد جب مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو بہت سے علماء روپوش ہو گئے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد ہمالیہ کے جنگلوں میں پھیل گئی اور "دعا تعویذ" کے انداز پر کام کرنے لگئی۔ ان کے اثر سے اس علاقہ کے لوگ کثرت سے مسلمان ہو گئے ۔ چنانچہ آسام سے لے کر کشمیر تک پہاڑوں میں جو چھوٹی چھوٹی بستیاں پھیلی ہوئی ہیں ، ان میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں اور یہ اسی وقت کی یادگار ہیں۔ اسی طرح علماء کی ایک تعداد مشرقی بنگال کے پس ماندہ علاقہ میں داخل ہو گی جہاں اس زمانہ میں سڑکیں وغیرہ کم ہونے کی وجہ سے انگریزی دارو گیر کا خطرہ نہیں تھا۔ یہ لوگ خاموشی کے ساتھ وہاں خانقاہیں بنا کر رہنے لگے۔ ان کے اثر سے اس علاقہ کی اکثریت مسلمان ہو گئی۔ یہی کام اگر حقیقی شعور اور منصوبہ بندی کے تحت کیا جاتا تو آج ملک کی تاریخ دوسری ہوتی اور اس کے ساتھ مسلمانوں کی بھی۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے بے شمار تحریکیں اٹھائیں۔ حتیٰ کہ ان کی تحریکوں کے غلغلہ سے فضائے آسمانی گونج اٹھی۔ مگر وہی ایک کام انھوں نے نہ کیا جو ان کے خدا نے سب سے زیادہ ان پر فرض کیا تھا یعنی اللہ کے دین کو اس کے تمام بندوں تک پہنچانا۔ تاہم مسلم سفارت کی کسی کوشش کے بغیر دینِ فطرت لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کہ دنیا میں کہیں یہ واقعہ پیش نہ آتا ہو کہ اللہ کے بندے اللہ کے دین کو قبول کر کے اس میں داخل ہو رہے ہوں مسلمانوں کو تو یہ توفیق بھی نہ ہوسکی کہ وہ کوئی ایسی ایجنسی قائم کرتے جو ان نو مسلموں کے اعداد و شمار جمع کر کے شائع کرتی ، البتہ عالمی ادارہ مذہب World Religions Institute نے حال میں کچھ اعداد و شمار شائع کئے ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ۱۹۷۱ء سے ۱۹۷۶ء تک کے پانچ سالوں میں تقریباً پانچ لاکھ آدمیوں نے اسلام قبول کیا۔ یہ اعداد و شمار صرف یورپ اور امریکہ سے متعلق ہیں۔ افریقہ میں مسلمانوں کی پس ماندگی اور عیسائی مشنریوں کی غیر معمولی جہد کے باوجود عیسائی بننے والوں کے مقابلہ میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ السٹریٹڈ ویکلی کے سابق ایڈیٹر مسٹر خوشونت سنگھ نے اپنے افریقی دورہ کے تاثرات کے ذیل میں لکھا تھا :
"کینیا اور یوگنڈا کے اپنے آخری سفر میں نے عیسائیوں اور مسلمانوں کی ان تبلیغی کوششوں کا جائزہ لیا جو نیگرو قبائل کے درمیان جاری ہیں۔ عیسائیوں نے تسلیم کیا کہ مسلم عرب بردہ فروشوں کی ناخوش گوار یادوں کے باوجود افریقہ کے سیاہ فام باشندوں میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد عیسائی بننے والوں سے زیادہ ہے۔ "
(السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا۔ ۷ جولائی ۱۹۷۶ء، صفحہ ۷)
اگرچہ ہمارے پاس قطعی اعداد و شمار نہیں ہیں تا ہم یہ اندازہ مبالغہ آمیز نہیں کہ آج بھی کسی خاص تبلیغی کوشش کے بغیر دنیا بھر میں جو لوگ مسلمان ہو رہے ہیں ان کی تعداد سالانہ دو لاکھ سے زیادہ ہے۔ اگر ان نو مسلموں سے روابط قائم کئے جائیں اور ان سے معلوم کیا جائے کہ اسلام کی کون سی خصوصیت نے انھیں متاثر کیا اور پھر ان معلومات کی روشنی میں عالمی سطح پر اسلام کی اشاعت کی منصوبہ بندی کی جائے تو صرف دس برس میں اسلام کی سربلندی کا وہ خواب پورا ہو سکتا ہے جس کو دوسری راہوں سے دوسرے برس سے حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر وہ حاصل نہیں ہوتا۔
نوٹ: یہ مقالہ ایک تقریر پر مبنی ہے جو ندوة المجاہدین کیرلا کے اجلاس بمقام ملاپورم ۱۱ مارچ ۱۹۷۹ء کی گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues