اسلام کی نظریاتی طاقت
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۴۲
اسلام کی نظریاتی طاقت
۱۹۴۷ء کا واقعہ ہے۔ میرے بڑے بھائی عبدالعزیز خاں (پیدائش ۱۹۲۰ء) کے پیٹ میں سخت درد اٹھا۔ ڈاکٹر انیس اس وقت اعظم گڑھ میں سول سرجن تھے۔ ان کو بلایا گیا۔ انھوں نے دیکھ کر بتایا کہ یہ اپنڈکس کا کیس ہے اور اس کا علاج صرف آپریشن ہے۔ اس کے بعد انھوں نے مشورہ دیا کہ ان کو فورا لکھنو لے جائیے ۔ ”اپنڈکس کا آپریشن تو اس زمانہ میں معمولی آپریشن سمجھا جاتا ہے “، میں نے کہا ” پھر اس کے لئے آپ ہم کو لکھنو کیوں بھیج رہے ہیں۔ یہیں اعظم گڑھ کے اسپتال میں کیوں آپریشن نہیں کر دیتے ۔ “ ڈاکٹر انیس میری یہ بات سن کر سنجیدہ ہو گئے۔ ”آپ صحیح کہتے ہیں، انھوں نے کہا مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ہمارے پاس تربیت یافتہ ہیڈ (کارکن) نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر ہم نے پیٹ میں شگاف ڈالنے کے بعد اپنا کام کر لیا اور چاک کو دوبارہ سینے کا وقت آیا تو ہمارے پاس ایسے ماہر آدمی ہونے چاہئیں جو خود سے یہ جان لیں کہ ہمیں کس قسم کے دھاگے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم کو پتلے دھاگے کی ضرورت ہو اور ہمارے پاس کھڑا ہوا آدمی موٹا دھاگاسوئی میں ڈال کر ہمیں دینے لگے تو سارا کام خراب ہو جائے۔ کیوں کہ یہ بے حد نازک لمحہ ہوتا ہے۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ ہم اپنے ساتھی کے کام کو دیکھیں اور جب وہ غلط دھاگہ ڈالے تو ہم کہیں کہ دیکھو موٹا دھاگا مت دینا، پتلا دھاگا دینا۔ اس کو بتائے بغیر جاننا چاہئے کہ ایک کے بعد دوسرا کون سا عمل کیا جانے والا ہے اور اس میں اس کو کیا حصہ ادا کرنا ہے۔ “ سول سرجن نے اپنی گفتگو اس جملہ پر ختم کی۔ ” میرے ساتھی کو جاننا چاہئے کہ میں آئندہ کیا کرنے والا ہوں۔ “ یہی بات ملت کی تعمیر کے لئے بھی صحیح ہے۔ ہر زمانہ میں ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں جو قوم کے لئے اپنی منزل کی طرف سفر کی نئی راہیں کھولتے ہیں۔ یہ حالات لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کرتے ہوئے نہیں آتے ۔ وہ عالم واقعات میں خاموشی کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ ملت کے افراد کا امتحان ہوتا ہے کہ کیا وہ اتنے حساس اور باشعور ہیں کہ خود سے جان لیں کہ خدائی اسکیم میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لئے انھیں کیا کرنا چاہئے۔ اس وقت ملت کے افراد اگر پیشگی اپنے حصہ کا عمل جان لیں تو وہ صرف ”۲۳ “ سال میں کامیابی کی بلندیوں پر پہنچ سکتے ہیں اور اگر وہ قدرت کے اشاروں کو سمجھیں تو دوسری راہوں پر ۲۳ سو سال کا شور وغل بھی کوئی نتیجہ پیدا کرنے والا نہیں ہے۔
ایک مثال لیجئے۔ مکہ میں پیغمبر کی رہنمائی میں جو دعوت اٹھی اور مختلف واقعات کے جلو میں جس طرح اس کی آواز سارے ملک میں پھیل گئی، اس کے نتیجہ میں بعثت کے پندرہویں سال یہ صورت حال تھی کہ قدیم عرب کے ہزاروں لوگ دل سے اسلام کی حقانیت کو مان چکے تھے۔ مگر اس ڈر سے وہ اسلام قبول کرنے سے رکے ہوئے تھے کہ اگر انھوں نے اپنے اسلام کا اعلان کیا تو وہ سارے قریش سے اعلان جنگ کے ہم معنی بن جائے گا۔ یہ ایک بے حد نازک لمحہ تھا۔ ایک طرف قریش کی ایذارسانی بے حد بڑھ چکی تھی۔ قریش نے مسلمانوں کو بیت اللہ سے روکا۔ ان کو ان کے گھروں اور
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues