Al-Risala · July 1979 · page 43

اسلام کی نظریاتی طاقت

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۴۳

جائدادوں سے نکالا، ان کی معاشیات کو تباہ کیا۔ ان کو نیست و نابود کرنے کے لئے وحشیانہ لڑائیاں لڑیں۔ ان کے لئے امن کے ساتھ وہنا نا ممکن بنا دیا۔ اس کے نتیجہ میں ایسا ہونا فطری تھا کہ مسلمانوں کے دل میں قریش کے خلاف نفرت اور دشمنی کی آگ بھڑک رہی ہو۔ مگر پیغمبر کی رہنمائی میں انھوں نے قدورت کے اشارہ کو پڑھ لیا۔ انھوں نے جان لیا کہ ربانی منصوبہ میں اس وقت انھیں جو حصہ ادا کرنا ہے وہ صبر ہے نہ کہ میدانِ مقابلہ میں شجاعت دکھانا۔ یعنی یہ کہ رہ جنگ و جدال کی صورت حال کو ہر قیمت پر ختم کر دیں تاکہ لوگ قریش سے جنگ مول لینے کے اندیشے سے مامون ہو کر اسلام کی طرف بڑھ سکیں۔ انھوں نے اپنی تلواروں کو یک طرفہ طور پر میان میں کر لیا اور قریش کے ظالمانہ مطالبات تک کو مان کر ان سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ کر لیا۔ اس کے مطابق قریش پابند ہو گئے کہ وہ دس برس تک مسلمانوں سے جنگ کریں گے اور نہ نئے اسلام میں داخل ہونے والوں سے۔ حدیبیہ کا معاہدہ (۴ ھ) اللہ کی اسکیم میں اپنے کو شامل کرنے کا یہی معاملہ تھا۔ اگر چہ یہ ناقابلِ برداشت کو برداشت کرنا تھا۔ مگر جب مسلمانوں نے اللہ کے بھروسہ پر ایسا کیا تو اس کے نتائج ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ جب یہ خبر پھیلی کہ قریش اور مسلمانوں کے درمیان یہ معاہدہ ہو گیا ہے کہ دونوں میں سے کوئی یک دوسرے کے خلاف جنگ نہیں چھیڑے گا تو متاثر قبیلے قریش کی جارحیت سے بے خوف ہو کر اسلام میں داخل ہونا شروع ہو گئے، مسلمانوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ معاہدہ حدیبیہ کے وقت مسلمانوں کی جماعت چودہ سو افراد پر مشتمل تھی اور اس کے بعد صرف دو برس میں ان کی تعداد دس ہزار ہو گئی۔ اب طاقت کا توازن مسلمانوں کی طرف تھا۔ کسی خون خرابہ کے بغیر محض رُعب و دبدبہ کے ذریعہ مرکزِ عرب (مکہ) پر ان کا قبضہ ہو گیا۔

یہی خدائی منصوبہ موجودہ زمانہ میں ایک اور صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ پچھلے سو برس سے مسلمان دیگر قوموں سے لڑائی بھڑائی میں مشغول ہیں۔ ان قوموں سے مسلمانوں کو جو شدید تکلیفیں پہنچیں، انہی کی وجہ سے مسلمانوں کو ان سے دشمنی اور نفرت پیدا ہوگئی اور انھوں نے ان کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ نتیجہ خود ان قوموں کے اندر بھی مسلمانوں سے اور ان کی ہر چیز سے عناد بڑھتا چلا گیا۔ مگر عین اس وقت جب کہ یہ کشمکش کسی نتیجہ تک پہنچے بغیر جاری تھی، ساری دنیا میں ایک اور انقلاب بھر آیا۔ یہ وہ فکری انقلاب ہے جو انیسویں صدی کے الحاد کے رد عمل کے طور پر پیدا ہوا ہے موجودہ زمانہ میں تقابلی مطالعہ ادیان، صنعتی تہذیب کے نتائج سے مایوسی، سائنس کی موافق مذہب در یافتیں اور دوسرے وجہ سے ساری دنیا میں ایک نیا ذہن پیدا ہوا ہے۔ لوگ از سرِ نو مذہبی تعلیمات کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم جدید مذہبی دلچسپیوں کی اس فہرست میں اسلام کا نام ابھی بہت پیچھے ہے۔ اس کی وجہ ہماری وہ لفظی اور غیر لفظی لڑائیاں ہیں جو ہم نے غیر مسلم قوموں سے ساری دنیا میں چھیڑ رکھی ہیں۔ نئے موافق امکانات دیو بارہ قدرت کی خاموش زبان میں سو برس سے یہ اشارہ کر رہے ہیں کہ آج دوبارہ ایک " صلح حدیبیہ " کی ضرورت ہے۔ اللہ کے دین کو آج مجاہدانہ اقدام نہیں بلکہ صابرانہ پسپائی درکار ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم غیر مسلم اقوام کے خلاف اپنی تمام سیاسی اور احتجاجی سرگرمیاں ایک طرفہ طور پر بند کر دیں ۔ تا کہ طرفین کے درمیان تناؤ ختم ہو اور لوگ معتدل فضا میں اسلام کا مطالعہ شروع کر سکیں۔ اس طرح وہ قو میں جو آج اسلام کی حریف بنی ہوئی ہیں، اسلام کی ممنون ہو جائیں گی۔ در جدید نے اسلام کے حق میں جو

‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues

Printed page