حفاظتِ قرآن
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۳۵
حفاظتِ قرآن
قرآن ۲۳ سال کے عرصہ میں اترا۔ سب سے پہلی آیت جو اتری وہ آیتِ علم (اقرأ باسم ربك الذى خلق) تھی اور آخری آیتِ آخرت (اتقوا يوماً ترجعون فيه الى الله، بقره) ابتدائی ۲۳ سال تک خود رسول اللہ کی ذات قرآن کے اخذ کا ذریعہ تھی۔ اپنے بعد آپ نے کچھ لوگوں کو نامزد کر دیا کہ ان سے تم قرآن سیکھنا۔ یہ لوگ وہ تھے جنہوں نے نہایت صحت کے ساتھ پورے قرآن کو اپنے سینہ میں محفوظ کر دیا تھا اور عربی زبان سے گہری واقفیت اور جنابِ رسول کی مسلسل صحبت کی وجہ سے اس قابل ہو گئے تھے کہ مستند طور پر قرآن کی تعلیم دے سکیں۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانے میں ایک شخص کوفہ سے مدینہ آیا۔ گفتگو کے دوران اس نے آپ سے کہا کہ کوفہ میں ایک شخص یاد سے قرآن پڑھاتا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر غضب ناک ہو گئے۔ مگر جب معلوم ہوا کہ وہ بزرگ حضرت عبد اللہ بن مسعود ہیں، تو آپ خاموش ہو گئے۔ (استیعاب، جلد ۱، صفحہ ۷۲، ۷۳) اس کی وجہ یہی تھی کہ عبد اللہ بن مسعود آنحضرت کے اجازت یافتہ تھے۔ آپ کے مجاز قاریوں میں سے چند نمایاں افراد یہ تھے : __ عثمان، علی، ابی ابن کعب، زید بن ثابت، ابن مسعود، ابو الدرداء، ابو موسیٰ اشعری، سالخ مولیٰ ابی حذیفہ۔
مگر یہ اجازت یافتہ افراد ہمیشہ نہیں رہ سکتے تھے۔ یہ اندیشہ بہر حال تھا کہ کسی وقت ایسے تمام لوگ ختم ہو جائیں اور قرآن دوسرے لوگوں کے ہاتھوں میں جا کر اختبلاف کا شکار ہو جائے۔ جنگ یمامہ ۱۲ھ) کے بارہ میں خبر آئی کہ کثرت سے مسلمان قتل ہو گئے ہیں۔ حضرت عمر، خلیفہ اول ابو بکر صدیق کے پاس آئے اور کہا کہ اب قرآن کی حفاظت کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں ہے کہ اس کو تحریری طور پر با ضابطہ مدون کر دیا جائے۔ اس موقع پر روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں :
فلما قتل سالم، مولی ابی حذیفہ خشی عمر ان جب سالم، مولیٰ ابو حذیفہ قتل ہوئے تو عمر کو خطرہ پیدا ہوا یہدھب القرآن فجاء الی ابی بکر - - - کہ قرآن ضائع نہ ہو جائے، وہ ابو بکر کے پاس آئے، فتح الباری جلد ۹ صفحہ ۹ یمامہ کی جنگ میں تقریباً ۷۰ صحابہ قتل ہوئے تھے۔ مگر حضرت عمر کو ”ذہابِ قرآن“ کا خطرہ حضرت سالم کی موت کی وجہ سے ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ان چند مخصوص صحابہ میں سے تھے جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیمِ قرآن کی اجازت دی تھی۔
جیسا کہ ثابت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے اترتے ہی اس کو فورا لکھوا لیا کرتے تھے۔ کتابت کا اہتمام اتنا زیادہ تھا کہ سورہ نساء آیت ۹۵ اتر چکی تھی بعد کو غیر اولی الضرر اس میں بطور اضافہ اترا۔ امام مالک کے الفاظ میں یہ ”حرف واحد“ (در منثور، جلد ۲، صفحہ ۲۰۳) بھی آپ نے اسی وقت کاتب کو لا کر لکھوایا : لما نزلت لا يستوى القاعدون من المؤمنين جب آیت لا يستوى القاعدون الم اتری تو رسول اللہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues