Al-Risala · January 1979 · page 36

حفاظتِ قرآن

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۳۶

غیر اولی الضرر والمجاهوون فی سبیل اللہ، صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زید کو بلاؤ اور وہ تختی اور قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ادع لی زید ادبیجی قلم اور کتف اور دوات لے کر آئیں ۔ جب وہ آگئے تو باللوح والقلم والكتف والدواة ثم قال اكتب کہا کہ لکھو لا یستوی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

لا یستوی ۔ ۔ ۔ (بخاری)

آپ کا معمول تھا کہ نازل شدہ آیات کو لکھوانے کے بعد اس کو پڑھوا کر سنتے۔ زید بن ثابت کا بیان ہے: فان كان فيه سقط اقامه (مجمع الزوائد، جلد ۱، صفحه ۶۰) اگر کوئی جزو لکھنے سے چھوٹ جاتا تو اس کو درست کراتے جب یہ سب کام پورا ہو جاتا تب اشاعت عام کا حکم دیا جاتا (ثم اخرج به الى الناس ۔ ۔ ۔ ) کاتبان وحی وہ صحابہ جن سے آپ قرآن کو لکھواتے تھے) ان کی تعداد ۴۳ تک شمار کی گئی ہے۔ (ان ۴۳ کاتبوں کے نام کے لئے ملاحظہ ہو الکتانی کی کتاب التراتيب الاداريه ، جلد ۱، صفحه ۱۶۔ مطبوعہ مراکش) ابن عبدالبر نے عقد الفرید (جلد ۳، صفحہ ۱۱۴ ) میں لکھا ہے کہ حنظلہ ابن ربیع رضو تمام کاتوں کے ” خلیفہ “ تھے۔ یعنی ان کو حکم تھا کہ وہ ہر وقت آپ کی صحبت میں موجود رہیں۔ آپ کے اس اہتمام کا نتیجہ یہ تھا کہ جب آپ کی وفات ہوئی تو کثرت سے لوگوں کے پاس قرآن کے اجزاء لکھے ہوئے موجود تھے۔ ایک تعداد ان لوگوں کی تھی جن کے پاس مکمل قرآن اپنی اصل ترتیب کے ساتھ جمع شدہ موجود تھا ۔ ان میں سے چار خاص طور پر قابل ذکر ہیں :

مات نبی ولم يجمع القرآن غير اربعة : بنی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو چار آدمیوں کے ابو الدرداء ومعاذ بن جبل وزيد بن ثابت و پاس مکمل قرآن تحریری طور پر موجود تھا: ابو الدرداء ، ابو زيد معاذ بن جبل ، زید بن ثابت اور ابو زید قرآن مکمل طور پر لکھا ہوا عہد نبوت میں موجود تھا۔ البتہ کتابی شکل میں ایک جگہ مجلد نہیں ہوا تھا۔ قسطلانی شارح بخاری کے حوالہ سے الکتانی نے نقل کیا ہے :

قد كان القرآن كله مكتوبا فى عہدہ صلی اللہ قرآن کل کا کل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ عليه وسلم لكن غير مجموع فى موضع واحد ہی میں لکھا جا چکا تھا۔ البتہ ایک جگہ تمام سورتوں کو الكتاني ، جلد ۲، صفحه ۳۸۴) جمع نہیں کیا گیا تھا۔

حارث محاسبی نے، جو امام حنبل کے معاصر ہیں ، اپنی کتاب فہم السنن میں لکھا ہے : وكان القرآن فيها منتشرا لمجمعها جامع د قرآن کی سورتیں اس میں الگ الگ لکھی ہوئی تھیں۔ ربطها بخيط ابو بکر کے حکم سے جامع (زید بن ثابت ) نے ایک جگہ سب سورتوں کو جمع کیا اور ایک دھاگہ سے سب کی شیرازہ بندی کی قرآن کی کتابت تین مراحل سے گزری ہے : کتابت ، تالیف، جمع ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues

Printed page