روزہ محتاط زندگی کی مشق ہے
الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۸
روزہ محتاط زندگی کی مشق ہے
ایک شخص جو زندگی کا مطلب یہ سمجھتا ہوا کہ " جسم کو تندرست رکھو، کھاؤپیو اور خوش رہو۔ ۔ اس کی سمجھ میں روزہ کا فائدہ نہیں آتا۔ وہ کہتا ہے کہ آخر روزہ کی ضرورت کیا ہے اور اس کو اسلام میں کیوں فرض کیا گیا ہے۔ ایک عام دنیا پرست کے سامنے زندگی کا جو نقشہ ہوا ہے اس میں روزہ کا جوڑ بیٹھتا ہو نظر نہیں آتا۔ وہ یا تو سرے سے روزہ نہیں رکھتا اور اگر روایتی اثرات کے تحت رکھتا بھی ہے تو وہ اس کی اصل زندگی کے ساتھ ایک بے جوڑ ضمیمہ کی مانند رہتا ہے، وہ اس کی شعوری ہستی کا جز نہیں بنتا۔ حالاں کہ حقیقی روزہ وہ ہے جو محض روایتی ضمیمہ نہ ہو بلکہ آدمی کے پورے وجود میں شامل ہوجائے۔
اگرچہ تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ روزہ کے اندر گہرے طبی فوائد بھی ہیں ۔ خاص طور پر قلب کی بیماریوں کے لیے یہ ایک نہایت کارگر حفاظتی تدبیر ہے۔ مگر اس قسم کے فوائد کا انکار نہ کرتے ہوئے ہم کہیں گے کہ یہ روزہ کا اصل مقصود نہیں ہے۔ یہ اس کے مختلف ضمنی فوائد میں سے ایک فائدہ ہے۔ روزہ اصلا ایک بہت بڑی حکمت کے لئے مقرر کیا گیا ہے، ایک ایسی حکمت جو آدمی کو حاصل نہ ہو تو اس کی ساری زندگی اکارت ہو کر رہ جائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ روزہ فرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے اندر تقویٰ پیدا ہو (بقرہ ۱۸۳) عربی زبان میں تقویٰ کا مطلب ہے بچنا، پرہیز کرنا۔ فرس و اق اس گھوڑے کو کہتے ہیں جو پاؤں میں تکلیف کی وجہ سے چلنے سے ڈرے۔ متقی کا لفظ زیادہ جامع طور پر تقریبا اسی مفہوم کے لئے بولا جاتا ہے جس کے لئے محتاط (Cautious) کا لفظ بولا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روزہ کا مقصد آدمی کے اندر اس نفسیاتی حالت کو بیدار کرنا ہے جس کو ہم اپنی زبان میں پروا، کھٹک اور احتیاط سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی صفت قرآن کی بھی بتائی گئی ہے (ذٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ ۛ ھدی لِلْمُتَّقِينَ) یعنی اس کتاب میں ان لوگوں کے لئے رہنمائی ہے جن کے دلوں میں کھٹک ہو۔ جو اس بات کے لئے اندیشہ میں رہتے ہوں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ تاکہ جو غلط ہے اس کو چھوڑ دیں اور جو صحیح ہے اس کو اپنے لئے اختیار کرلیں۔ یہی تقویٰ یا کھٹک کی حالت ساری نیکیوں کی بنیاد ہے۔ کیونکہ جس کو کھٹک ہو وہی اس کے بارے میں سنجیدہ ہوگا کہ وہ غلط کو چھوڑ دے اور صحیح پر چلنے کا اہتمام کرے۔ جس کے دل میں کھٹک ہی نہ ہو وہ اس قسم کی تمیز کرنے کی ضرورت کیوں سمجھے گا۔ وہ تو صرف اپنی خواہشوں پر چلے گا۔ ظاہری طور پر دیکھنے میں جو چیز اس کو پسند آئے گی، اس کو لے لے گا، خواہ وہ چیز صحیح ہو یا غلط۔
روزہ یہی کھٹک کی حالت پیدا کرنے کی ایک تدبیر ہے۔ روزہ کے ذریعہ آدمی کی روزانہ زندگی میں یہ بات شامل کردی جاتی ہے کہ وہ اپنے روز و شب کے معاملات کو " کھٹک " کی نظر سے دیکھے۔ یہ ایک مشق ہے جو شعبان کی ۲۹ تاریخ سے شروع ہوجاتی ہے۔ ۲۹ شعبان کی شام کو آدمی کی نظریں آسمان میں چاند دیکھنے کے لئے گڑ جاتی ہیں کہ کہیں وہ گردش زمین کے اس لمحہ میں تو داخل نہیں ہو گیا ہے جب کہ اس کو اپنی زندگی کے نقشہ کو بالکل بدل دینا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues