روزہ محتاط زندگی کی مشق ہے
الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۹
سحر کب ہوتی ہے اور سورج کب غروب ہوتا ہے، اس کو ٹھیک ٹھیک جاننے کے لئے وہ فکرمند رہتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اپنی زندگی کے نظام میں اس کو ان کی رعایت کرتے ہوئے چلنا ہے۔ دیگر ایام میں بھوک اور خواہش اس کی رہنما تھی مگر اب اس کو نہایت صحت کے ساتھ یہ جاننا پڑتا ہے کہ کتنے بج کر کتنے منٹ پر کھانا پینا ہے اور کتنے بج کر کتنے منٹ کے بعد کھانا پینا بالکل بند کر دینا ہے۔ جو دن پہلے کسی احتیاط اور اندیشہ سے بے نیاز رہتے تھے، انھیں دنوں کے بارے میں اب وہ یہ مسئلہ جاننا ضروری سمجھنے لگتا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے، کیا کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا ہے، ایسا نہ کرو ورنہ روزہ ٹوٹ جائے گا۔ ویسا نہ کرو ورنہ روزہ رکھ کر بھی تم بے روزہ ہو جاؤ گے۔ غرض ایک مہینے تک تمام رات اور تمام دن اس مشق میں گزر جاتے ہیں کہ آدمی کہاں تک جا سکتا ہے اور کہاں تک نہیں جاسکتا۔ اس کو کس طرح رہنا چاہئے اور کس طرح نہیں رہنا چاہئے ۔ روزہ کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کے روزمرہ کے معمولات میں کیا کر سکتے ہو، کیا نہیں کرسکتے ، کا مسئلہ کھڑا کرکے اس کو تیار کیا جائے کہ وہ اسی کو اپنا مستقل مزاج بنادے ۔ یہ کشمکشی زندگی ہی ایمانی زندگی ہے اور یہی ساری عمر کے لئے مومن سے مطلوب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ کی جو دعائیں منقول ہیں وہ اس کیفیت کو بتاتی ہیں جو روزہ کے ذریعہ انسانی نفسیات میں پیدا کرنا مقصود ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ پورا کرنے کے بعد شام کو جب آپ افطار فرماتے تو آپ کی زبان سے کچھ دعائیہ کلمات نکلتے ۔ اس سلسلہ میں حدیث کی کتابوں میں مختلف دعائیں آئی ہیں۔ یہاں مسئلہ کو سمجھنے کے لئے چند دعائیں نقل کی جاتی ہیں۔
الحمد للہ الذي اعانني فصمت ورزقنی فافطرت شکر اللہ کے لئے ہے جس نے مدد کی تو میں نے روزہ رکھا اور جس نے رزق دیا تو میں نے افطار کیا۔
اللهم لك صمنا وعلى رزقك افطرنا فتقبل منا انك اے اللہ ہم نے تیرے ہی لئے روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق انت السميع العليم سے افطار کیا۔ تو ہمارے روزے کو قبول فرمائے یقیناً تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔
اللهم لك صمت وعلى رزقك افطرت اے اللہ، میں نے تیرے ہی لئے روزہ رکھا اور تیرے ہی دئے ہوئے رزق سے افطار کیا۔
الحمد لله ذهب الظمأ وابتلت العروق و ثبت شکر اللہ کا، پیاس بجھ گئی اور رگیں تر ہو گئیں اور اللہ الاجر انشاء الله نے چاہا تو اجر ضرور ملے گا۔
ان دعاؤں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بس ان کو رٹ لیا جائے اور لفظی منتر کی طرح ان کو افطار کے وقت زبان سے دہرا دیا جائے۔ یہ دعائیں دراصل ان کیفیات کا اظہار ہیں جو بندہ مومن کے اندر روزہ رکھنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ ایک خداکا بندہ خدا کے لئے دن بھر بھوکا پیاسا رہنے کے بعد شام کو جب کھانا اور پانی سے اپنے جسم کو شاد کام کرتا ہے اس وقت اس کے قلب میں اپنے رب کے بارے میں جو کیفیات امنڈتی ہیں، وہ کیفیات ان لفظوں کی صورت میں ڈھل گئی ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues