روزہ محتاط زندگی کی مشق ہے
الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۱۰
یہ اور اس طرح کی دوسری دعائیں جو حدیث کی کتابوں ہیں آئی ہیں، وہ سب سے زیادہ قیمتی ذریعہ جاننے کا میں کہ روزہ کی حقیقت کیا ہے اور ہمیں اپنے روزہ کو کس معیار پر جانچنا چاہئے۔ وہ معیار یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ وہ کیفیات جن کا ذکر ان دعائیہ کلمات میں ہے، وہ ہمارے اندر امنڈتی ہیں یا نہیں۔ اگر ہمارا روزہ ان کیفیات میں ڈھل رہا ہو تو تو ہمارا روزہ روزہ ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو ہم کو ڈرنا چاہئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے روزہ کو یہ کہہ کر ہماری طرف لوٹا دیا جائے ”_ تمہارا روزہ تو محض کھانا پینا چھوڑنا تھا۔ اور جب آدمی غیر متقیانہ روش کو نہ چھوڑے تو خدا کو اس کی حاجت نہیں کہ کوئی شخص خواہ مخواہ اپنا کھانا پانی چھوڑ دے۔
سلیمان بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص افطار کرے تو اس کو چاہئے کہ کھجور سے افطار کرے۔ کیوں کہ اس میں برکت ہے۔ اور کھجور نہ پائے تو اس کو چاہئے کہ پانی سے افطار کرے کیونکہ وہ پاک ہے (احمد، ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ، دارمی) اس طرح کی روایات روزہ کی ایک اور حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ وہ یہ کہ مومن کو چاہئے کہ وہ سادہ اور فطری زندگی اختیار کرے۔ اور مصنوعی لوازم اور غیر ضروری تکلفات سے پر ہیز کرے ۔ پانی اور کھجور سے افطار دراصل سادہ اور فطری زندگی کی علامت ہے جس کی مشق عین اس وقت کرائی جاتی ہے جب کہ آدمی بھوک پیاس سے بے قرار ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ اس کے قریب ہوتا ہے کہ غیر سادہ اور غیر فطری زندگی پر ٹوٹ پڑے ۔
دنیا میں اسلامی زندگی کو پانے کی واحد اور لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی سادہ اور فطری زندگی پر اپنے کو راضی کرلے ۔ سادہ زندگی آدمی کو ان غیر ضروری لوازم سے بچاتی ہے جن میں مشغول ہونے کے بعد وہ اس قابل ہی نہیں رہتا کہ وہ دین کے کاموں میں زیادہ توجہ دے سکے۔ سادہ زندگی ایک مومن کے لئے موجودہ دنیا میں وہی اہمیت رکھتی ہے جو ایک مریض کے لئے پر ہیز کی اہمیت ہوتی ہے۔ سادہ زندگی، آدمی کو غیر ضروری تکلفات سے فارغ رکھ کر دین میں بھر پور حصہ لینے کے قابل بناتی ہے ۔ اس کے برعکس غیر سادہ زندگی آدمی کو غیر ضروری مشاغل میں پھنسا کر دین سے دور کر دیتی ہے ۔ یہی معاملہ فطری زندگی کا ہے۔ آدمی فطرت سے جتنا زیادہ قریب ہوگا اتنا ہی وہ خدا سے قریب ہوگا۔ آدمی جب کھجور اور پانی سے افطار کرتا ہے تو اس کو کھجور اور پانی کا خالق یاد آتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ حلوہ اور مصنوعی شربتوں سے افطار کرے تو اس کو حلوہ بنانے والے اور مصنوعی مشروبات تیار کرنے والے یاد آتے ہیں۔ اول الذکر افطار اس کو خدائی صنعتوں کی یاد کی طرف لے جاتی ہے اور ثانی الذکر انسانی صنعتوں کی یاد کی طرف۔
روزہ کی حالت میں کسی کے منھ میں کھانا چلا جائے تو وہ سہم اٹھتا ہے کہ اس کا روزہ کہیں جاتا نہ رہے یہی تقویٰ ہے اور یہی کیفیت آدمی سے اس کے تمام معاملات میں مطلوب ہے۔ آدمی اپنے دل کو خدا کی یاد سے غافل پائے تو اس کو اندیشہ لگے کہ وہ خدا کی رحمتوں سے محروم تو نہیں ہو گیا ہے۔ وہ کسی کو حقیر و ذلیل سمجھتے ہوئے ڈرے کہ عزت و ذلت تو خدا کے ہاتھ میں ہے۔ کیا معلوم خدا اس کو عزت دے اور مجھ کو ذلیل کر دے۔ جب آدمی کے اندر اس قسم کی فکر مندی چھاتی ہے تو قدرتی طور پر اس کی عادتیں سادہ ہو جاتی ہیں۔ وہ تکلفات سے دور ہو جاتا ہے۔ وہ فطرت کی سطح پر زندگی گزارنے لگتا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues