روزہ محتاط زندگی کی مشق ہے
الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۱۱
مسٹر سی۔ ایس۔ جھا اقوام متحدہ ہیں ہندوستان کے نمائندہ رہ چکے ہیں۔ اگست۔ ستمبر ۱۹۶۵ میں ہند و پاک جنگ کے بعد تاشقند میں جو کانفرنس ہوئےئی ، اس میں وہ شریک تھے۔ وہ لکھتے ہیں، کہ اس کانفرنس میں سابق صدر محمد ایوب خاں کارجان مصالحت کی طرف تھا۔ مگر ذوالفقار علی بھٹو اور مسٹر عزیز احمد کا خیال تھا کہ ہندوستان جب تک کشمیر کے معاملہ میں پاکستان کے موقف کو نہ تسلیم کرے، کوئی معاہدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں وہ لکھتے ہیں کہ ۷ جنوری ۱۹۶۶ کو روسی میزبانوں کی طرف سے کھانے کی ایک دعوت تھی۔ مسٹر عزیز احمد نے گفتگو کے دوران اپنی جیب سے ایک کاغذ نکالا جس پر تین سطروں میں ایک عبارت لکھی ہوئی تھی۔ ان کے بیان کے مطابق یہ ان کی طرف سے مشترکہ اعلامیہ کا مجوزہ مضمون تھا۔ جو مسٹر بھٹو نے پنسل سے لکھا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ طرفین نے کشمیر کے سوال پر تبادلہ خیال کیا اور اس پر متفق ہو کہ دہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور اقوام متحدہ کے رزولیوشن کے مطابق پرامن حل کے لیے باہم گفتگو کریں گے؛ اس کے بعد مسٹر جھا لکھتے ہیں: بظاہر اس کا مطلب یہ تھا کہ مسٹر بھٹو جس چیز کو جنگ کے ذریعہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اس کو وہ تاشقند میں حاصل کر لینا چاہتے ہیں (السٹر یٹڈ ویکسلی ۶ مئی ۱۹۷۹)
It seemed that Bhutto wished to succeed in Tashkent in what he had failed to achieve by war!
آخری جملہ میں مسٹر جھانے جو تبصرہ کیا ہے، وہ موجودہ دور کی پوری مسلم سیاست پر صادق آتا ہے، ہمارے قائدین آج جس سیاست میں مشغول میں وہ ہر جگہ یہی ہے کہ میدان مقابلہ میں ہاری ہوئی بازی کو تقریروں اور تحریروں کے زور پر دوبارہ جیت لیں۔ عدم تیاری ، ناقص منصوبہ بندی، اتحاد کی کمی ، صورت حال کا غلط اندازہ، یہ وہ چیزیں ہیں جنہوں نے ہمارے قائدین کے بڑے بڑے اقدامات کو ناکام بنا دیا ہے۔ اس کے لئے دوسرا راستہ یہ تھا کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے اور دوبارہ صحیح تیاری کر کے کھوئی ہوئی چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ مگر وہ حیرت انگیز جسارت کے ساتھ الفاظ کو عمل کا قائم مقام بنانے میں مشغول ہیں۔
زندگی کے معاملات کا فیصلہ عمل کے میدان میں ہوتا ہے نہ کہ الفاظ کے میدان میں عمل کے حقیقی میدان میں جولوگ قیادت کی اہلیت کا ثبوت نہ دے سکیں وہ اکثر بحث و گفتگو کی میز پریا تقریر کے پنڈال میں لفظوں کے کرتب دکھا کر اپنے کو باعمل ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اس قسم کی عملیت صرف آدمی کے جرم میں اضافہ کرتی ہے۔ ایک شخص جب حقیقی عملی امتحان میں ناکام ہو جائے تو اس کے لیے صحیح راستہ صرف یہ ہے کہ اپنی نااہلی کا اعتراف کر کے خاموش بیٹھ جائے یا پھر اپنے منصوبہ کی خامیوں کو درست کر کے دوبارہ صحیح تر انداز سے اس کی جد و جہد شروع کرے۔ اس کے بجائے لفظی کمالات کے ذریعہ عمل کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرنا ایک ایسا فعل ہے جو نہ خدا کی نگاہ میں کوئی قیمت رکھتا ہے اور نہ بندوں کی نگاہ میں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues