Al-Risala · August 1979 · page 13

جو کھوتا ہے وہی پائے گا

الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۱۳

آخرت کی منزل کے لئے آگے روانہ بن جائے ۔

انبیاء اور ان کے ساتھی "گھر" سے محروم کیوں رکھے گئے ۔ اس کا جواب ہم کو ایک حدیث میں ملتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "اللہ نے فرشتہ کے ذریعہ میرے پاس یہ پیغام بھیجا کہ مکہ کی وادی کو تمھارے لئے سونا بنا دیا جائے۔ میں نے کہا اے میرے رب نہیں۔ بلکہ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ ایک روز کھاؤں اور ایک روز بھوکا رہوں۔ تا کہ جب میں بھوکا ستایئں تجھ سے عاجزی کروں اور جب مجھے سیری حاصل ہو تو میں تیرا شکر کروں اور تیری تعریف کروں"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حالات کے بغیر کیفیات پیدا نہیں ہو سکتیں ۔ انبیاء دنیا کی زندگی میں "گھر والے" نہیں بنائے گئے۔ انھوں نے دنیا کے سرد و گرم کے درمیان بے گھر ہونے کا مزہ چکھا تاکہ آخرت کے گھر کی تڑپ ان کے اندر کمال درجہ میں پیدا ہو، آخرت میں بے جگہ ہو جانے کی حقیقت ان کے اوپر پوری طرح کھل جائے۔ جنت کے مکانات سے محرومی کے بعد انسان کا کیا حال ہوگا، اس کا احساس ان کے اندر شدت سے ابھر آئے۔ پیغمبروں کا مشن یہ تھا کہ وہ دنیا والوں کو آخرت کے معاملہ کی سنگینی سے پوری طرح باخبر کردیں۔ وہ لوگوں کو بتادیں کہ جو شخص آخرت میں بے گھر ہو گیا، اس کے لئے ابدی عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس قسم کی ایک دعوت وہی شخص دے سکتا ہے جو موت سے پہلے موت کے بعد کے احوال کو دیکھنے لگا ہو۔ جو شخص اس مقام پر نہ ہو اس کے کلام میں آخرت کی ٹیسیں شامل نہیں ہو سکتیں اور جس کے کلام میں آخرت کی ٹیسیں شامل نہ ہوں اس کا آخرت کی پیغام رسانی کے لئے اٹھنا ایک قسم کی شاعری ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں دعوت ۔ ایسا داعی اس شخص کی مانند نہیں ہو سکتا جو ایک منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور پھر دوسروں کو اسے دکھاتا ہے ۔ اگر چہ آدمی کے عجز کا تقاضا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے رب سے عافیت مانگے ۔ وہ ہمیشہ یہ التجا کرے کہ اللہ اس کو کسی مشکل میں نہ ڈالے۔ مگر یہ بھی واقعہ ہے کہ آدمی کی خدا پرستی جب تک اس کو اپنی طرف اس طرح نہ کھینچ لے کہ دوسری تمام مصلحتوں کے سرے اس کے ہاتھ سے چھوٹ جائیں، وہ حقیقی معنوں میں خدا والا نہیں ہو سکتا ۔ جب تک اس کا یہ حال نہ ہو کہ آخرت کے شوق میں اس کی دنیا بر باد ہو جائے ، اس وقت تک وہ اگلی دنیا کی تجلیات کا مشاہدہ نہیں کر سکتا جب تک اس کی جنت کی طلب اس درجہ کو نہ پہنچ جائے کہ دنیا میں گھر بنانا اس کو یاد نہ رہے ، اس وقت تک وہ جنت کی حقیقت سے آشنا نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں خانہ بربادی کا تجربہ کرنے کے بعد ہی آدمی آخرت میں خانہ آبادی کی اہمیت اور معنویت کو سمجھتا ہے۔ اس کے بعد ہی اس کے اندر وہ داعیانہ سنجیدگی پیدا ہوتی ہے جو اس کو آخرت کا منذر اور مبشر بنا سکے۔ داعی کا کلام آخرت میں بسا ہوا کلام ہوتا ہے اور کوئی شخص جب تک آخرت کی طلب میں اس انتہا تک نہ جائے کہ اس کی خاطر اس کی زندگی بر باد ہو جائے ، وہ آخرت میں ایسے موئے الفاظ میں کلام نہیں کر سکتا۔

گھر کا لفظ ابتدائی طور پر اس در و دیوار کے لئے بولا جاتا ہے جہاں آدمی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ روز و شب گزارتا ہے۔ مگر اس کے آگے آدمی کا ایک اور گھر ہے۔ یہ اعوان و انصار کا وہ حلقہ ہے جو کسی کے لئے دوستوں اور رشتہ داروں کے ذریعہ بنتا ہے اور کسی کے لئے اس کے معتقدین اور متاثرین کے ذریعہ کسی کے لئے گاہکوں (clients) اور چندہ دہندگان کے ذریعہ بنتا ہے اور کسی کے لئے تالیاں بجانے والے اور استقبال کرنے والے عوام کے ذریعہ۔ یہ حلقہ یا دائرہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues

Printed page