Al-Risala · January 1979 · page 37

حفاظتِ قرآن

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۳۷

پہلے مرحلہ میں کوئی آیت یا سورہ اترتے ہی اس کو کسی ٹکڑے پر لکھا یا جاتا تھا، اس سلسلے میں حسب ذیل چیزوں کے نام آئے ہیں:

رقاع چمڑا لخاف: پتھر کی سفید پتلی تختیاں (سلیٹ)

کتف اونٹ کے مونڈھے کی گول ہڈی عسیب کھجور کی شاخ کی جڑ کا کشادہ حصہ دوسرے مرحلہ کے عمل کو حدیث میں تالیف سے تعبیر کیا گیا ہے (کنا عند النبی صلی اللہ علیہ وسلم تولف القرآن فى الرقاع، مستدرک حاکم) گویا اولاً ہر آیت نازل ہوتے ہی لکھ لی جاتی تھی۔ پھر جب سورہ مکمل ہو جاتی تو پوری سورہ کو مرتب شکل میں رقاع (چمڑے) پر لکھتے تھے۔ اس قسم کے موثقہ قرآن (مکمل یا غیر مکمل) دور نبوت ہی میں کثرت سے لوگوں کے پاس ہو چکے تھے۔ حضرت عمر کے اسلام لانے کے مشہور واقعہ میں ہے کہ بہن کو زدو کوب کرنے کے بعد آپ نے کہا دہ کتاب مجھے دکھاؤ جو ابھی تم پڑھ رہے تھے (اعطنى الصحيفة التى سمعتكم تقرؤن آنفا، ابن ہشام)۔ بہن نے جواب دیا : ناپاکی کے ساتھ تم اس کو چھو نہیں سکتے۔ پھر آپ نے غسل کیا اور ان کی بہن نے کتاب انھیں دی (فاغتسل فاعطته الصحيفة)

تیسرے مرحلہ کے کام کو ”جمع“، سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی پورے قرآن کو ایک جلد میں یکجائی طور پر لکھنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن مختلف رسالوں اور کتابوں کی شکل میں ہوتا تھا۔ تمام سورتوں کو ایک ہی تقطیع اور سائز کے اوراق پر لکھوا کر ایک ہی جلد میں مجلد کرنے کا طریقہ آپ کے عہد میں رائج نہ تھا ۔ بخاری کی ایک روایت کے مطابق صرف چار صحابہ (ابی بن کعب، معاذ بن جبل، ابوزید، زید بن ثابت) تھے جنہوں نے پورے قرآن کو آپ کے عہد میں مجموعی شکل میں تیار کر لیا تھا۔ تاہم ان کی حیثیت نجی مجموعوں کی تھی۔ محمد بن کعب القرظی کے حوالہ سے کنز العمال میں جو روایت ہے ، اس کے مطابق ایسے جامعین قرآن کی تعداد پانچ تھی، (جمع القرآن في زمان النبی صلی اللہ علیہ وسلم خمسة من الانصار) حضرت ابوبکر صدیق نے جو کام کیا وہ یہی تھا کہ انھوں نے ریاستی انتظام کے تحت تمام سورتوں کو ایک ہی تقطیع اور سائز پر لکھوا کر مجلد کرا دیا۔ امام مالک شہاب زہری سے اور شہاب زہری عبداللہ بن عمر کے صاحبزادے سالم کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ زید بن ثابت نے القراطیس پر ابو بکر کے حکم سے قرآن کی کل سورتوں کو لکھا تھا۔ بعض محققین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ایک ہی تقطیع کے اوراق جب بنائے جاتے تھے تو ان کو قراطیس کہتے تھے۔ ایک سائز کے اوراق پر لکھے ہونے کی وجہ سے ابوبکر صدیق کی حکومت کے مرتب کردہ اس نسخہ کو ربعہ کہتے تھے (اتقان، جلدا ، صفحہ ۷۵ - ۴۸) ربعه کا ترجمہ چوکھنٹا کیا جاسکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان اوراق کا طول وعرض انفا متساوی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں مصر، عراق، شام اور یمن وغیرہ میں قرآن کے ایک لاکھ سے زیادہ نسخے موجود تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues

Printed page