Al-Risala · August 1979 · page 23

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۵

الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۲۳

جن لوگوں نے انکار کیا، ان کے لئے یکساں ہے ڈراؤ یا نہ ڈراؤ، وہ ماننے والے نہیں ہیں۔ اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر ممہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے ۔ 6-7 ایک شخص اپنی آنکھ کو بند کرلے تو آنکھ رکھتے ہوئے بھی وہ سورج کو نہ دیکھے گا۔ کوئی شخص اپنے کان میں روئی ڈال لے تو کان رکھتے ہوئے بھی وہ باہر کی آواز کو نہیں سنے گا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ حق کا بھی ہے۔ حق کا اعلان خواہ کتنا ہی واضح صورت میں ہو رہا ہو مگر کسی کے لئے وہ قابل فہم یا قابل قبول اس وقت بنتا ہے جب کہ وہ اس کے لئے اپنے دل کے دروازے کھول رکھے ۔ جو شخص اپنے دل کے دروازے بند کر لے، اس کے لئے کائنات میں خدا کی خاموش پکار اور پیغمبر کی زبان سے اس کا لفظی اعلان دونوں بے سود ثابت ہوں گے۔

حق کی دعوت جب اپنی بے آمیز شکل میں اٹھتی ہے تو وہ اتنا زیادہ بانی بر حقیقت اور اتنا زیادہ مطابق فطر ہوتی ہے کہ کوئی شخص اس کی نوعیت کو سمجھنے سے عاجز نہیں رہ سکتا۔ جو شخص بھی کھلے ذہن سے اس کو دیکھے گا اس کا دل گواہی دے گا کہ یہ عین حق ہے۔ مگر اس وقت عملی صورت حال یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف وقت کا ڈھانچہ ہوتا ہے جو صدیوں کے عمل سے ایک خاص صورت میں قائم ہو جاتا ہے۔ اس ڈھانچہ کے تحت کچھ مذہبی یا غیر مذہبی گدیاں بن جاتی ہیں جن پر کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ کچھ عزت و شہرت کی صورتیں رائج ہو جاتی ہیں جن کے جھنڈے اٹھا کر کچھ لوگ وقت کے اکابر کا مقام حاصل کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ کچھ کاروبار اور مفادات قائم ہو جاتے ہیں جن کے ساتھ اپنے کو وابستہ کر کے بہت سے لوگ اطمینان کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔

ان حالات میں جب ایک غیر معروف کونے سے اللہ اپنے ایک بندے کو کھڑا کراتا ہے اور اس کی زبان سے اپنی مرضی کا اعلان کرتا ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں کو اپنی بنی بنائی دنیا بھنگ ہوتی نظر آتی ہے۔ حق کے پیغام کی تمام تر صداقت کے باوجود دو چیزیں ان کے لئے اس کو صحیح طور پر سمجھنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ ایک کبر، دوسرے دنیا پرستی ۔ جو لوگ مروجہ ڈھانچے میں بڑائی کے مقامات پر بیٹھے ہوئے ہوں ان کو ایک "چھوٹے آدمی" کی بات ماننے میں اپنی عزت خطرہ میں پڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ احساس ان کے اندر گھمنڈ کی نفسیات جگا دیتا ہے۔ داعی کو وہ اپنے مقابلہ میں حقیر سمجھ کر اس کی دعوت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اسی طرح دنیوی مفادات کا سوال بھی قبول حق میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ کیونکہ حق کا داعی مروجہ ڈھانچے کا نمائندہ نہیں ہوتا۔ وہ ایک نئی اور غیر مانوس آواز کو لے کر اٹھتا ہے، اس لئے اس کو ماننے کی صورت میں لوگوں کو اپنے مفادات کا ڈھانچہ ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے۔

یہی وہ مانع کیفیت ہے جس کو قرآن میں ہر لگانے سے تعبیر کیا گیا ہے، جو لوگ دعوت حق کے معاملہ کو سنجیدہ معاملہ نہ سمجھیں ۔ جو گھمنڈ اور دنیا پرستی کی نفسیات میں مبتلا ہوں ان کے ذہن کے اوپر ایسے غیر محسوس پر دے پڑ جاتے ہیں جو حق کو ان کے ذہن میں داخل نہیں ہونے دیتے۔ کسی چیز کے بارے میں آدمی کے اندر مخالفانہ نفسیات جاگ اٹھیں تو اس کے بعد وہ اس کی معقولیت کو سمجھ نہیں پاتا۔ خواہ اس کے حق میں کتنے ہی واضح دلائل پیش کئے جارہے ہوں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues

Printed page