بسم اللہ الرحمن الرحیم ۵
الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۲۴
اور لوگوں میں کچھ ای بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر، حالاں کہ وہ ایمان والے نہیں ہیں۔ وہ اللہ کو اور مومنین کو دھوکے دینا چاہتے ہیں۔ مگر وہ صرف اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں اور وہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔ ان کے دلوں میں روگ ہے تو اللہ نے ان کے روگ کو بڑھا دیا۔ اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ کہتے تھے۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ آگاہ یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں مگر وہ نہیں سمجھتے۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم بھی اسی طرح ایمان لے آؤ جس طرح اور لوگ ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیا ہم اس طرح ایمان لائیں جس طرح بے وقوف لوگ ایمان لائے ہیں۔ آگاہ کہ بے وقوف یہی لوگ ہیں مگر وہ نہیں جانتے۔ اور جب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اور جب اپنے شیطانوں کی مجلس میں پہنچتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں۔ ہم تو ان سے محض ہنسی کرتے ہیں۔ اللہ ان سے ہنسی کر رہا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دے رہا ہے، وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے راہ کے بدلے گمراہی خریدی تو ان کی تجارت سود مند نہ ہوئی اور نہ ہوئے راہ پانے والے۔
جو لوگ فائدوں اور مصلحتوں کو اولین اہمیت دئے ہوئے ہوتے ہیں ان کے نزدیک یہ نادانی کی بات ہوتی ہے کہ کوئی شخص تحفظات کے بغیر اپنے آپ کو ہمہ تن حق کے حوالے کردے۔ ایسے لوگوں کی حقیقی وفاداریاں اپنے دنیوی مفادات کے ساتھ ہوتی ہیں۔ البتہ اسی کے ساتھ وہ حق سے بھی اپنا ایک ظاہری رشتہ قائم کر لیتے ہیں۔ اس کو وہ عقل مندی سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ان کی دنیا بھی محفوظ ہے اور اسی کے ساتھ ان کو حق پرستی کا تمغہ بھی حاصل ہے۔ مگر یہ ایک ایسی خوش فہمی ہے جو صرف آدمی کے اپنے دماغ میں ہوتی ہے۔ اس کے دماغ کے باہر کہیں اس کا وجود نہیں ہوتا۔ آزمائش کا ہر موقع ان کو سچے دین سے کچھ اور دور اور اپنے مفاد پرستانہ دین سے کچھ اور قریب کر دیتا ہے۔ اس طرح گویا ان کا نفاق کا مرض بڑھتا رہتا ہے۔ ایسے لوگ جب سچے مسلمانوں کو دیکھتے ہیں تو ان کا احساس یہ ہوتا ہے کہ وہ خواہ مخواہ سچائی کی خاطر اپنے کو برباد کر رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اپنے طریقے کو وہ اصلاح کا طریقہ کہتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو نظر آتا ہے کہ اس طرح کسی سے جھگڑا مول لئے بغیر اپنے سفر کو کامیابی کے ساتھ طے کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ صرف بے شعوری کی بات ہے۔ اگر وہ گہرائی کے ساتھ سوچیں تو ان پر کھلے گا کہ اصلاح یہ ہے کہ بندے سے صرف اپنے رب کے ہو جائیں۔ اس کے برعکس فسادیہ ہے کہ خدا اور بندے کے تعلق کو درست کرنے کے لئے جو تحریک چلے اس میں روڑے اٹکائے جائیں۔ ان کا یہ بظاہر نفع کا سودا حقیقتاً گھاٹے کا سودا ہے۔ کیونکہ وہ بے آمیز حق کو چھوڑ کر ملاوٹی حق کو اپنے لئے پسند کر رہے ہیں جو کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔ اپنے دنیوی معاملات میں ہوشیار ہونا اور آخرت کے معاملے میں سرسری توقعات کو کافی سمجھنا گویا خدا کے سامنے جھوٹ بولنا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں ان کو بہب جلد معلوم ہو جائے گا کہ اس قسم کی جھوٹی زندگی آدمی کو اللہ کے یہاں عذاب کے سوا کسی اور چیز کا مستحق نہیں بناتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues