بسم اللہ الرحمن الرحیم ۵
الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۲۵
ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ جلائی۔ جب آگ نے اس کے اردگرد کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کی بینائی سلب کرلی اور ان کو اندھیرے میں چھوڑ دیا کہ ان کو کچھ نظر نہیں آتا۔ وہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں۔ اب، یہ لوٹنے والے نہیں ہیں۔ یا ان کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے بارش ہورہی ہو، اس میں تاریکی بھی ہو اور گرج چمک بھی۔ وہ کڑک سے ڈر کر موت سے بچنے کے لئے اپنی انگلیاں اپنے کےنوں میں ٹھونس رہے ہوں۔ حالاں کہ اللہ منکروں کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ قریب ہے کہ بجلی ان کی نگاہوں کو اچک لے۔ جب بھی ان پر بجلی چمکتی ہے، اس میں وہ چل پڑتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو وہ رک جاتے ہیں۔ اور اگر اللہ چاہے تو ان کا کان اور ان کی آنکھوں کو سلب کرلے۔ اللہ یقیناً ہر چیز پر قادر ہے ۱۷ - ۲۰ کسی کمرہ میں کالی اور سفید چیزیں ہوں تو جب تک اندھیرا ہے وہ اندھیرے میں گم رہیں گی ۔ مگر روشنی جلاتے ہی کالی چیز کالی اور سفید چیز سفید دکھائی دینے لگے گی ۔ یہی حال اللہ کی طرف سے اٹھنے والی دعوت نبوت کا ہے۔ یہ خدائی روشنی جب ظاہر ہوتی ہے تو اس کے اجالے میں ہدایت اور ضلالت صاف صاف دکھائی دینے لگتی ہیں۔ نیک عمل کیا ہے اور اس کے ثمرات کیا ہیں ، برا عمل کیا ہے اور اس کے ثمرات کیا ہیں، سب کھل کر ٹھیک ٹھیک سامنے آجاتا ہے۔ مگر جو لوگ اپنے آپ کو حق کے تابع کرنے کے بجائے حق کو اپنا تابع بنائے ہوئے تھے، وہ اس صورت حال کو دیکھ کر گھبرا اٹھتے ہیں۔ ان کا چھپا ہوا حسد اور گھمنڈ زندہ ہو کر ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ، خدائی آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھتے ہی ان کی منفی نفسیات ابھر آتی ہیں۔ ان کے اندرونی تعصبات ان کے حواس پر اس طرح چھا جاتے ہیں کہ آنکھ ، کان، زبان رکھتے ہوئے بھی وہ ایسے ہو جاتے ہیں گویا کہ وہ اندھے ہیں، وہ بہرے ہیں، وہ گونگے ہیں۔ اب وہ نہ تو کسی پکارنے والے کی پکار کو سن سکتے ہیں، نہ اس کی پکار کا جواب دے سکتے ہیں نہ کسی قسم کی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کے لئے صحیح رویہ یہ تھا کہ وہ پکارنے والے کی پکار پر غور کرتے۔ مگر اس کے بجائے انھوں نے اس سے بچنے کا سادہ سا علاج یہ دریافت کیا کہ اس کی بات کو سرے سے سناہی نہ جائے ، اس کو کوئی اہمیت ہی نہ دی جائے۔
اسی طرح ایک اور نفسیات ہے جو حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ یہ ڈر کی نفسیات ہے۔ بارش اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ مگر بارش جب آتی ہے تو اپنے ساتھ کڑک اور گرج بھی لے آتی ہے جس سے کمزور لوگ ہیبت کھا جاتے ہیں۔ اسی طرح جب اللہ کی طرف سے حق کی دعوت اٹھتی ہے تو ایک طرف اگر وہ انسانوں کے لئے عظیم کامرانیوں کا امکان کھولتی ہے تو دوسری طرف اس میں کچھ وقتی اندیشے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس کو مان لینے کی صورت میں اپنی بڑائی کا خاتمہ ، زندگی کے بنے بنائے نقشہ کو بدلنے کی ضرورت، روایتی ڈھانچہ سے ٹکراؤ کے مسائل آخرت کے بارے میں خوش خیالیوں کے بجائے حقائق پر بھروسہ کرنا۔ اس قسم کے اندیشوں کو دیکھ کر کبھی رک جاتے ہیں اور کبھی تذبذب کے ساتھ چند قدم آگے بڑھتے ہیں۔ مگر یہ احتیاطیں ان کے کچھ بھی کام آنے والی نہیں ہیں، کیونکہ خدائی پکار کے لئے اپنے کو کھلے دل سے پیش نہ کرکے وہ زیادہ شدید طور پر اپنے کو خدا کی نظر میں قابل سزا بنا رہے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues